صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

کون یہ سوختہ جاں اُٹھا ہے

مصنف: وقت: جمعرات، 5 جنوری 201213 تبصرے

ابا جان بچھڑے تو غم انکے بچھڑنے کا تھا، ملال ان کے ہجر تھا، رونا انکی جدائی کا تھا لیکن آج اس سے کہیں زیادہ کہ ایک باغبان نے تین ننے پودے لگائے، کمال چاو سے انکی آبیاری کی، کمال جانثاری سے انکی رکھوالی کی اور کمال ڈھنگ سے انہیں پرورش چڑھایا لیکن، لیکن جب ننے پودے درخت کی صورت اختیار کرگئے اور پھل کھانے کا موسم آیا تو باغبان، باغبان من و مٹی اوڑھے سو رہا ہے۔ تین سال نہیں گزرے، لگتا ہے زمانہ گزر گیا ہے، شب و روز بدل گئے، دن و رات کے احوال بدل گئے، زندگی اور زندگی کا پیمانہ بدل گیا۔ وہ جن کے چلنے سے سانسیں چلتی تھیں، وہ جنکے روکنے سے جی رکتا رتھا، وہ شمع محفل، وہ رونق جاں اب کہیں دور، بہت دور۔ شام قبرستان سے نکلا تو انکھیں نم تھیں، دل بجھا ہوا تھا، یادوں کے آنگن میں خواب و خیال کی آوری تھی، دھندلی سی تصویر تھی، مدھم سی آواز تھی، قدموں کی سراسرہٹ تھی اور، اور میں۔

دفتر سے چھٹی ملنا اور فرصت کے لئے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے لیکن کل دسمبر کی آخری شام غنیمت سے ہاتھ آگئیں تو دل کی دہلیز پر یادوں کی دستک ہونے لگی، پرانے گھائو چبھنے لگے اور پرانے زخم تازہ ہوتے گئے اور ان زخموں سے جن کے درد سے کبھی جان نکلی جاتی تھی میں ایسا سرور چڑھا کہ لطف و وصل کا سامان ہوگئیں۔ شام کے آخری حصہ میں گھر آیا تو کتابوں کی الماری سے وہ قرآن نکالا جو مطالعہ کے لئے وقف تھا، ایک ایک ورق پر سوز کا احساس، ایک ایک حرف پر تڑپ اور پیاس۔ اسی اثناء میں اس علمی دولت کی طرف نظر پہنچی جو اس مطالعہ قرآن و حدیث کا حاصل تھیں اور عرصے سے میری غفلت کا مجسمہ بنے پڑی تھی، کچھ کام اوراق کی زینت بنے پرانی الماری کے ایک خانے میں رکھے تھے اور کچھ کمپیوٹر کی فائلوں میں گم۔ ملامت نے آڑے ہاتھوں لیا تو فیصلہ کیا کہ تمام کام جمع کیا جائے اور عمومی استفادے کے لئے شائع کراکے ادھورے مشن کو مکمل کیا جائے۔ نماز مغرب کے بعد مرحوم و مغفور کے کچھ دوستوں سے ملاقات کی، جن سے نہ ہوسکی انہیں فون گھمایا اور خیر و عافیت چاہی۔ عشاء سے پہلے چائے کے ساتھ سوچ کا محور ادھورے کاموں کی تکمیل اور مکمل شدہ تحاریر کے طبع کی طرف تھی۔یہ یقینا ایک مشکل کام ہوگا اور سب سے مشکل ان ادھورے مضامین کو مکمل کرنا یا کم از کم قابل طبع بنانا ہے۔ لیکن ہمت کرکے اس کام کے لئے کچھ ابتدائی منصوبہ بندی کی اور شیڈول سازی کی۔

مگر مرحوم و مغفور کا ہمت اور حوصلہ کہاں سے لائوں، بیماریوں کا ایک بوجھ تھا جس پر حاوی ہوکر دنیا بھر گھوم لیتے تھے، جگر اور سینے کی بیماریاں کینسر میں بدل چکی تھیں اور موت دہلیز کے پار آکھڑی تھی لیکن استقامت کی دیوار اور اطمینان کا پہاڑ معلوم ہوتے۔ تکلیف بڑھتی تو سینے سے تکیہ دبائے سوچ کی کسی گہری دنیا میں کھو جاتے۔ تنہائی وحشت ایسی کہ ذرا دیر بھی اکیلے نہ رہ پائیں اور شور سے اتنی ہی بیزاری، تنز و مزاح کا اعلی مزاج اور ہنستا مسکراتا وجود لیکن اعتدال ایسا کہ ساری زندگی میں کبھی بے ڈھنگے ہنستے نہیں دیکھا۔ عالمانہ اور مفکرانہ انداز، پروقار شخصیت، جانثار پاب، باوفا شوہر، فرمابردار بیٹا، حساس طبیعت، دھیمہ لہجہ، اصول پرستی، سچائی، بہادری، انکساری، ایمانداری، میانہ روی اور حساب کتاب کے کھرے یوں سنت رسول کے کئی عملی وصف چلتے پھرتے نظر آجاتے لیکن ہر انسان میں کچھ کمزوری ہوتی ہے اور ان میں یہ کمزوری غصہ تھی۔ دنیا نے انہیں سیلف میڈ کہا، اس لئے نہیں کہ کوئی امارت کھڑی کرلی بلکہ اس لئے کہ بڑے بھائیوں کے سامنے اپنی خودداری بھی رکھی اور لوگوں میں لاغر والدین کی لاج بھی۔ سیت پور کے ایک مدرسہ میں درس نظامی کے ابتدائی سال پڑھ رہے تھے کہ زمانہ نے کروٹ بدلی اور ہجرت ناگزیر ٹھری، کراچی آئے تو کسی اپنے پرائے سے مدد لئے بغیر نویں دسویں کے امتحان ایک ساتھ دے ڈالے اور امتیازی نمبروں سے پاس ہوئے، پھر کیا تھا کہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ لالو کھیت کے علاقے میں ایک کمرا کرائے پر لیکر ٹیوشن سینٹر کھولا، 1979 میں جامعہ کراچی سے انگریزی ادب میں ماسڑز کیا اور اگلے برس شادی۔ مدرسے کی تعلیم نے ایک نصب العین دے دیا تھا، زندگی بھر اس پر چلتے رہے، عین شباب میں ڈاکٹر عبدالحئی صاحب کے مشورے پر مفتی تقی عثمانی کے صاحب کے ساتھ مل کے ایک تعلیمی سوسائٹی کی بنیاد رکھی جسکا مقصد دینی ماحول میں جدید و قدیم علوم کا فروغ علم تھا، پہلے مرحلے میں اورنگی ٹاون میں ماڈل اسکول کھولے گئے لیکن قصبہ علی گڑھ کے ہنگاموں نے منصوبے کو خاک میں ملادیا اور سارا سرمایہ اور افرادی قوت ضائع گیا۔ سرکاری ملازمت کی تو ایسی کہ دنیا نے دیکھا اور پھر جب افسری چھوڑی تو دنیا عش عش کر اٹھی۔ رشوت کے بازار میں بیٹھ کر رشوت کے خلاف جہاد کیا اور اس جگہ پر جہاں لاکھوں کی قیمت لگتی ہے انمول رہے، ایمانداری سے گھر کا چولھا نہیں چلتا اس لئے رات رات بھر ٹیوشن پڑھائے۔ سیاسی دبائو اور یونین کی بدمعاشی کے آگے بے بس ہوئے تو کنارہ کشی اختیار کی اور تدریس و تعلم کو کل وقتی مقصد بنالیا۔

اقبال نے کہا تھا کہ خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر اور میں نے اس شعر کی تعبیر اپنے گھر میں دیکھی، وہ یوں کہ ابا جان نے ملازمت چھوڑی تو معاشی تنگی اور بیماریوں نے استقبال کیا، جمع پونجی سے ایک ننے تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی تو اسکے اخراجات کو سنبھالنا مشکل تھا اور مجبوراً اسے بند کرنا پڑا، تدریس چھوڑی تو تحریر و تحقیق کا کام شروع کیا، دینی علوم اور انگریزی و عربی زبان پر تو دسترس تھی ہی اس لئے کمال درجہ کا کام ہوا، کچھ شائع کروایا اور بہت کچھ ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔ تہجد سے تھوڑا پہلے وضو کے لئے اٹھے تو طبیعت بے چین تھی، انکھوں کے گرد اندھیرا تھا اور سخت سردی میں گھٹن سے جان نکل رہی تھی، اسی حال میں چھوٹی بہن کو بس کا کرایہ دیکر زبردستی امتحان پر بھیجا، میں پاس بیٹھا کبھی پنکھا کھولتا اور کبھی انہیں اٹھا کر دروازے کے پاس لے جاتا، وہ دن گزر گیا، تین سال اور گزر گئے اور میں تحفظ کے ایک ناقابل بیان احساس سے دور، بہت دور۔ انہی خیالوں میں کھویا شام قبرستان سے نکلا تو انکھیں نم تھیں، دل بجھا ہوا تھا، یادوں کے آنگن میں خواب و خیال کی آوری تھی، دھندلی سی تصویر تھی، مدھم سی آواز تھی، قدموں کی سراسرہٹ تھی اور، اور میں۔

فیس بک تبصرے

13 تبصرے برائے: کون یہ سوختہ جاں اُٹھا ہے

  1. یار کیا کرتے ہیں…
    آنکھوں میں آنسو لیے، دل میں ایک درد لیے آپ کی یہ تحریر پڑھی… آپ کے والد صاحب سے ملاقات ہوئی اور فخر ہوا کہ ملاقات کا شرف بخشا گیا… آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس ملاقات کا اہتمام کمال خوبصورت الفاظ کے ذریعے کیا…
    اللہ والد صاحب کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے… اور ان کے بوئے ہوئے پودوں کی سدا حفاظت فرمائے…
    مزید لکھنا چاہتا ہوں، لیکن شاید آپ کے والد صاحب اور اس تحریر کے شایانِ شان الفاظ میرے پاس نہیں ہیں… اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے… آمین…

  2. اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے ،انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔آمین
    بے شک نیک اولاد صدقہ جاریہ ہے۔
    دل سے لکھی تحریر ہے۔۔جو میرے جیسے کمزور دل والوں کیلئے کافی سخت ہے۔

  3. آپ نے ہمارے زخم کو بھی تازہ کر دیا۔ دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہوئی تحریر ہے اور ایک ایک حرف خلوص سے بھرپور ہے۔ اللہ مرحوم کو اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کی لغزشوں و کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔ آمین

  4. کسی بہت اپنے کے ہمیشہ کے لیے بچھڑجانے کا سوچ کر ہی خوف آتا ہے. لیکن اس کا صحیح ادراک تو انہیں ہی ہوسکتا ہے جو اس خوف سے گذرچکے ہوں. آپ کی اپنے والد محترم کی یاد میں لکھی گئی اس تحریر کا جواب نہیں ہے. تحریر میں انکے لیے خلوص و محبت، چاہت اور انکے بچھڑنے کے درد کی جھلک موجود ہے. اللہ آپ کے والد مرحوم کو اپنے جواررحمت میں جگہ عطا فرمائے اور صالح اولاد کی صورت میں چھوڑے ہوئے انکے سرمائے کی حفاظت فرمائے…

  5. دوست says:

    اللہ سائیں آپ کے والد محترم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے.
    دل سے نکلے اثر انگیز الفاظ تھے اس تحریر کے.

  6. @ عمران: @ یاسر: @ ابو شامل: @ وقار: @ شاکر عزیز:
    تعریف اور دعاوں کا بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔۔

  7. عثمان says:

    بہت خوب ..
    ان کے شائع کردہ کام کے متعلق کچھ تعارف کراؤ۔

  8. کمال تحریر ہے اور تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ جن کے متعلق لکھا گیا وہ اس تحریر سے بھی زیادہ متاثر کن شخصیت کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

  9. Sadiq Ali says:

    Allah aap kai walid ki mughfirat farmayai or aap ko in ki zindagi k roshan pehlau sai roshnash farmayai……..

  10. @ عمیر علی اور صادق علی : تحریر پڑھنے اور تبصرے کا شکریہ

  11. حا فظ اکرام الحق عرؔبی says:

    چھ سال جی بالکل چھ سال پہلےسے یہی تیر اندر ہی اندر سب کچھ چھلنی کر چکا ہے اور آج آپ کی اس تحریر نے ان زخموں کو پھر سے تازہ کر دیا ہے بس بات وہی ہے جو آقائے کریم ﷺ نے فرمائی تھی کہ ہمارے دل غم سے لبریز ہیں لیکن ہم رب کریم کی رضا پر راضی ہیں اللہ ان کو نعمتوں بھری جنت میں جگہ عطا فرمائے۔آمین

  12. sheikho says:

    بہت اعلی تحریر

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>