صفحہ اوّل » کاشف نامہ

سیاسی شیعائیت

مصنف: وقت: اتوار، 29 مئی 201112 تبصرے

Iranian Cyber Armyکیا لوگ ابن سباء کو بھول گئے، سیدنا عثمان نے اسے مدینہ سے بے دخل کیا تو کوفہ اور مصر میں بیٹھ کر اسنے سازشوں کے جال بچھائے۔ مدینہ، سفین، جمل، نہروان اور کربلہ میں اسکے کارندے بروکار آئے اور جو شیرو شکر تھے انہیں باہم دست و گریباں کردیا۔ بظاہر حبِ اہل بیت کے دلنشین اور پرسوز نعرے سے برپا ہونے والی تحریک نے سیاسی غلبے اور اقتدار کی لڑائی سے ہوتے ہوئے ایک مکمل فرقے کا رنگ جما کر امت کے قلب میں ایک ایسی مظبوط دیوار کھڑی کردی ہے کہ چودہ صدیاں بیت گئی، دیوار نہیں گری۔

عیسائیت میں سینٹ پال اور اسلام میں ابن سباء تلاش کرنے والے تل ابیب میں جمع ہوچکے ہیں اور صرف جمع ہی نہیں ہوئے نہیں شطرنج کے کسی کھیل کی مانند عالمی امن کی بساط لپیٹ رہے ہیں۔ ابن سباء کے تمام فکری اور غیرفکری اولادیں انکی پشت پر سوار ہیں اور باقی امت ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا۔ اٹھنے، جمع ہونے اور بروئےکار آنے کا وقت یہ نہیں تو اور کونسا ہے۔ لیکن، لیکن کیا! نفرت اور بغض کی تلوار لیکر پھرنا، حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ اہل نظر کہتے ہیں کہ نفرت اس دین حق کی طبیعت میں نہیں اور بغض و کینہ ہمیں سیکھایا نہیں گیا۔ اٹھ کھڑے ہونے والوں کے مدنظر ہونا چاہئے کہ حبِ اہل بیت کا نعرہ جتنا دلپزیر تھا اس سے نمودار ہونے والی خلیج، دشمنی اور بغض اتنی ہی طویل اور گہری ہے۔ صدیوں کے تعامل نے شیعیت کو ایک ایسی حقیقت میں تبدیل کردیا ہے کہ اب یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں رہا بلکہ کروڑوں انسانوں کا مسلکی، تہذیبی اور تاریخی ورثہ بھی بن چکا ہے۔ چنانچہ سیاسی شیعیت اور عوامی شیعیت میں فرق روا رکھتے ہوئے شدت، نفرت اور بغض کے بجائے حکمت، محبت اور قربت کے راستے اپنائے جانے چاہئے۔

آج تک کسی نامور فقہی اور عالم نے شیعہ فرقے کی کلی تکفیر نہیں کی، انکے یہاں ہمیشہ فرق رکھا گیا اور اصول وضع کئے گئے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ اس فرق کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہو لیکن ایسا نہ ہونے کی وجہ سے جہاں عامتہ المسلمین کے لئے درست سمت کا انتخاب مشکل تر ہوتا جارہا ہے وہی جہادی میدانوں میں سرگرم نوجوانوں میں بھی نفرت اور شدت بڑھتی جارہی ہے۔ اختلاف صرف اختلاف نہیں رہا مفادات کے بھینٹ چڑھ کر نفرت، فساد اور کشت و خون تک پھیل چکا ہے۔ گو مسئلہ چودہ صدیوں پرانا ہے لیکن انقلابِ ایران اور اسکی توسیعی ایجنڈے نے اسے مزید پیچیدہ، گہرا اور متشدد کردیا ہے۔ علمائے کرام کی اکثریت کا طرز عمل سمجھ سے بالاتر ہے۔ وہ ایک طرف مختلف دینی تحریکوں اور فقہی مجلسوں میں سیاسی شیعوں کو ساتھ رکھتے ہیں اور دوسری طرف جب بات خالص عوامی ماحول میں آتی ہے تو فورا یو ٹرن لے کر نفرت کی دیوار کو برقرار رکھتے ہیں۔ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ابہام برقرار رکھا گیا ہے کہ ایک طرف تکفیر سے انکار ہے تو دوسری طرف قبول کرنے میں تردد۔ کوئی عالم یا مذہبی رہنما اتنی جرت نہیں رکھتا کہ عوام کو اس فرق کے مطابق عمل پر تیار کرسکے۔

دوسری طرف سیاسی شیعت امتِ مسلمہ کی ہر تقسیم کو اپنے مفاد کے لے استعمال کررہی ہے، چاہے وہ سیاسی ہو، مذہبی ہو یا جغرافیائی۔ صرف برِصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل سنت والجماعت تین بڑے مسالک بریلوی، دویوبندی اور اہل حدیث میں تقسیم ہیں اور پھر ہر مسلک مزید ذیلی گروہوں اور تحریکوں میں تقسیم در تقسیم۔ اس تقسیم اور داخلی لڑائی نے بھی شیعہ مسئلے کو کنفیوزن کا شکار رکھا ہوا ہے۔ ان حالات میں اگر جمع ہے تو صرف مودودیت جس پر کچھ دیوبندی دوستوں کا الزام ہے کہ وہ رافضیوں کی بی ٹیم ہے۔ پڑھے لکھے طبقے میں دین سمجھانا اور استدلال کی زبان میں بات کرنا مولانا مودودی کے کارنامے ہیں لیکن انکے یہاں بھی اس مسئلے پر گومگو کی کیفیت برقرار ہے۔ مولانا کے کچھ معتقدین انقلاب ایران کے رسیا اور حزب اللہ کے دیوانے ہیں جبکہ اکثریت سیاسی و غیرسیاسی شیعت کو سمجھنے سے قاصر اور دوری برقرار رکھنے پر مسلسل بضد۔

ایران کی موجودہ حکومت سیاسی شیعت کی علمبردار اور داعی ہے جس نے شیعہ انقلاب کی توسیع کے لئے پاکستان، عراق، شام، لبنان، یمن اور بحرین کے حالات کو فرقہ ورانہ بنیادوں پر خراب کیا ہے۔ کچھ بعید نہیں کہ آئندہ چند سالوں میں اس خرابی کے خطرناک نتائج عرب کے وسط شام میں ظاہر ہوں جہاں سیکولر بشارالسد اور مذہبی احمدی نجات کے درمیان سیاسی شیعت کی بنیاد پر قربتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ سیاسی شیعیت کے برخلاف عوامی شیعت دوسرے عام مسلمانوں کی طرح سادہ اور دلپزیر ہے۔ ایران کی سیاسی شیعیت انہیں اپنے رنگ میں رنگنے کے لئے کثیر سرمایہ بروئے کار لارہی ہے۔ شیخین پر تبرا، محرم کے جلوسوں میں شدت اور ایرانی انقلاب کے ترانوں میں بتدریج اضافہ اب اظہر المن شمس ہے۔ پاکستانیوں شیعوں کی تعداد کل آبادی کا قریب 8 فیصد ہے لیکن بلاشبہ اپنی تعلیم، محنت اور خوشحالی کی بدولت سے مظبوط اور متحرک ہے۔ ایران اس موثر اقلیت کو مسلسل استعمال کرنے کی کوشش میں لگا ہے کبھی براہ راست امام خمینی کی تصاویر اور جھنڈوں تلے اور کبھی سیکولر، ملحد اور لبرل خیالات کے بینرز کے نیچے۔ دو چیزیں یہاں قابل غور ہیں، ایک یہ کہ پاکستانی شیعہ اقلیت ایران کی راہ پر چل کر پاکستان پر غلبہ تو حاصل نہیں کرسکتے لیکن اکثریت سے جھگڑا لیکر مسلسل بے خوفی، بدامنی اور نفرت کا شکار ہورہی ہے اور دوسری طرف  سنی مذہبی تحریکوں کا کوئی ایسا لیڈر نہیں جو شیعہ عوام کو متاثر کرسکے اور مشترکہ لیڈر کے طور پر ابھر کر ایرانی ارادوں کو خاک میں ملادے۔

سنی اور شیعہ فرقوں میں مشترکات پر مبنی بیداری کا کام جماعت اسلامی کرسکتی تھی، مگر نہ کرسکی۔ مولانا مودودی کے معتقدین نے عوامی شیعیت کو نظرانداز کرکے سیاسی شیعیت سے رابطہ استوار کیا اور فرقہ پرست مولانا حق نواز جھنگوی کے طبقے نے سیاسی شیعیت کے خلاف جدوجہد میں عوامی شیعیت کو نشانہ بنایا۔۔ گویا ایک طرف وہ لوگ ہیں جو صاحب حکمت و بصیرت ہیں لیکن افسوس مصلحت کی گھتیوں میں الجھے ہوئے کہ سامنے آتے بھی نہیں اور پیچھے چھپتے بھی نہیں اور دوسری طرف وہ جو اس حکمت و بصیرت سے کوسوں سے دور لیکن خلوص اور سچائی کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایک طالبانہ سوال ہے کہ دو انتہاوں میں اگر میزان کی کوئی راہ ہے تو وہ کونسی ہے۔

فیس بک تبصرے

12 تبصرے برائے: سیاسی شیعائیت

  1. چوهـدرى محمد حنيف says:

    سپاه صحابه زنده باد

  2. بہت اعلیٰ ….کاشف بھائی !
    اتنے بڑے مضمون میں یہ خبر نہیں لگنے دی کہ آپ نے مولانا مودودی رحمتاللہ علیہ کی تعریف کی ہے یا ان پر تنقید….یار لوگ تو کچھ اچھا وقت گزارنے کے لئے ہوتے ہیں.قلب کی تبدیلی کے لئے نہیں. قلب کی تبدیلی کا معاملہ تعلیم ، شعور ، حقائق اور دلائل پر چھوڑنا چاہئے.

  3. abdullah adam says:

    asslam o alykum::

    bhai jan lfz MOUDODI ko drust frma lain.

    baqi log WAHDAT E UMMAT k chakar main sb BHAN MATI ko jornay pr lagay hoay hain.

    w slam

  4. کاشف بھائی ! مولانا مودودی نے ایران کے شیعہ انقلاب کو اہل پاکستان کے لیے کبھی نہیں چاہا ہے۔ مقصد اسلامی انقلاب تھا۔ اس وقت جو حکومتیں تھیں اس میں اسلام کے نام پر کسی حکومت کا وجود میں آنا کم از کم ان لوگوں کو یہ یقین دلانے کے لیے کافی تھا کہ عوام چاہے جتنے بھھی گمراہ ہوجائیں کسی نہ کسی موڑ پر وہ اپنا وزن اسلامی پلڑے میں ڈالیں گے۔ انقلاب ایران ، ایک قابض شاہ کے خلاف ایک عملی انقلاب تھا۔ مولانا مودودی (ر) نے اسی وجہ سے اس کی تائید کی تھی۔ اس کو خلافت وملوکیت کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ وہ بالکل ایک علمی بحث ہے۔
    جہاں تک سپاہ صحابہ والے ساتھی کا تعلق ہےے تو ان کے لیے اتنا عرض ہے کہ جتنا نقصان سپاہ صھابہ جیسی تنظیموں نے اہل سنت کو پہنچایا ہے وہ اہل تشیع نے نہیں پہنچایا ۔ آج سپاہ صحابہ والے ساتھی جو کرتے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں اور اہل تشیع پورے پاکستانی میڈیا کے علاوہ اہم حکومتی عہدوں پر مسلکی نمائندگی کے عدم متوازن ہونے کا سبب بن رہے ہیں۔ صدر، وزیر اعظم ، کئی ایک اہم وزیر، مشیر سب اسی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٹی وی چینلز میں تقریبا سارے کے سارے اہل تشیع ہم عہدوں پر فائز ہے۔ کچھ اس محاذ پر بھی کریں۔ کچھ پڑھ لکھ کر اس ملک کے اداروں میں پہنچ کر اپنا حصہ کا اہم کام سرانجام دیے جناب

  5. […] ابن سباء سے مودودی تک کا سفر […]

  6. امین says:

    جناب السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    تحقیق کا بہتر منہج وہ ہے جس میں مخاطب اپنے مدعا کو آسان عام فہم اور مختصر دلنشین انداز میں پیش کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ اسلام میں حق اور اہل حق کو جتنا نقصان منافقین اور متطرفین سے پہنچا ہے اس کی تلافی تا حال نہ ہوسکی اور نہ ہوسکتی ہے۔ جن لوگوں نے دین حق کی خدمت اور غلبہ اسلام کے لیے جو ان مٹ کردار ادا کیا ان میں سید ابوالاعلیٰ کا کردار سنہری حروف سےلکھا جاتا ہے ۔ لیکن حسب روایت فاسدہ مفسدین اور خود غرض جاہل لوگوں نے مولانا مرحوم کے خدمات کے اعتراف کے بجاےتنقید کا زبردست طوفان کھڑا کر دیا ۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے دلیل آفتاب امد دلیل آفتاب
    غرض یہ ہے کہ عصر حاضر میں اسلام اور مسلمانوں کی اگر اہم ترین اور مفید ترین خدمت ہوسکتی ہے تووہ اتحاد امت اور دین اسلام کے سر بلندی گمراہ اور نااہل کرپٹ غیروں کے غلام حکمرانوں سے اقتدار چھین کر اہل اللہ کے حوالے کرنا ہی ہے۔ تاکہ اسلا م اور مسلمان امت درخشاں ماضی کے طرح ایک بار پھر اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ افق پر ایک چمکتا دمکتا ہوا سورج طلوع ہو۔
    اللہ تعالی ہمارا حامی وناصر ہو۔

  7. ابن داؤد says:

    جناب اتنے بھی ساده نہ بنیں آپ نے جس دیو بندی اور شیعہ اتحاد کی بات کی ایسے تحریکی اور وقتی اتحاد کی مثالیں تو پوری اسلامی تاریخ میں مل جائیں گی آپ نے صلاح الدین ایوبی کے حالات نہیں پڑھے آپ کی یہ بات درست ھے کہ یہ عام سیاسی اتحاد نہیں ھوتے بلکہ مذہبی جدوجہد کا حصہ ھوتے ھیں مگر عزیزم یہ مت بھولئے کہ اسلام اسوقت غالب نہیں مغلوب ھے. ملحد اور بے دین طبقات کے خلاف خوارج اور شیعہ کو ساتھ ملانے کی تصریح ھزار سال پرانے علماء اور فقھاء نے بھی کی ھے مبسوط سرخسی میں تفصیل دیکھ لیں .

    لیکن صرف دیوبندی ھی نہیں تمام اھل سنت والجماعت میں سے کسی نے بھی صحابہ کرام اور امھات المؤمنین پر طعن و تشنیع نہیں کی آپ کو کس جاھل نے کہا کہ مولانا مرحوم کا یہ معاملہ صرف خلافت وملوکیت تک محدود ھے اگر قاضی صاحب کے دور میں کچھ عبارتیں تبدیل بھی کر دی گئیں تو اسے مولانا مودودی کا رجوع کیسے مان لیا جائے الحمدلله عقیدے کا معاملہ اھلسنت کے ھاں بالکل واضح ھےتسلی کرنا چاھتے ھیں تو کسی بھی ثقہ اور معتبر دیوبندی، بریلوی ،اھلحدیث مفتی سے پاکستان میں پائے جانے والے شیعہ یعنی اثنا عشری کے اسلام فتویٰ لیں ذرا جب کہ جماعت اسلامی انکے اسلام کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتی اور نہ ھی باقی مسالک سید مودودی کی طرح عمر بھر خمینی کا مالی تعاون کرتے رھے لاھور تشریف لائیں مولانا کے عمر بھر کے دوستوں سے خود تحقیق کر لیں اور یہ بھی یاد رکھیں سید مودودی پر علماء کی مجموعی رائے صرف اس بنا پر نہیں بلکہ درجن بھر سے زیاده اھم مسائل ھیں ـ
    اایک اور بھائی کا جواب ھو جائے جو سپاه صحابہ کو میڈیا اور حکومت میں ترقی کا مشوره دے رھے ھیں محترما خدا را کچھ تو سوچیئے اس دجالی مڈیا اور طاغوتی نظام حکومت میں کوئی راسخ العقیده اور با شعور مسلمان ترقی کر سکتا ھے؟.
    آپ کے خیال میں کفر اور اسلام کا راستہ ایک ھے صرف عقیدے کا فرق ھے بابا یہ کفر اور عالم کفر کے ھتھیار ھیں ان میں ترقی کے لئے اسلام کا بطور دین انکار پہلی شرط ھے یعنی کہ………………..

  8. “کیا باقی اہل سنت کا موقف واضع ہے”
    اگر آپ پہلے مطالعہ کرلیتے تو آپ پر واضح ہوجاتا کہ اس بارے میں اہلِ سنت کا مؤقف واضح ہے۔ لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ دوسروں کو تکفیر بازی کے فن میں مہارت کا طعنہ دینے والے اس معاملے میں تکفیری فتووں کے لیے اس قدر بے چین کیوں ہیں؟ :ڈ

  9. Sharif jamvi says:

    ماشااللہ.آپ نے ٹھیک کھا اپنی معلومات تک.

  10. حرف حق says:

    محترم کاشف نصیر صاحب،
    اگر آپ کو شیعہ کی تکفیر پر کوئی اجتماعی اور واضح موقوف نہیں مل رہا تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ اہلسنت نے کبھی بھی شیعہ کی تکفیر نہیں کی۔۔۔۔یہ فتنہ سپاہ صحابہ کے ساتھ وجود میں آیا۔ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (تحفہ اثنا عشریہ)سے لیکر، دیوبند، اہلحدیث اور بریلوی، اکابر علما تک کسی نے شیعہ کی تکفیر نہیں کی۔۔۔یہ حق نواز صاحب پر کونسا وحی اتری یا تحقیق سے ایسے بند گوشے سامنے آئے جو تمام اکابر سے اوجھل رہے؟ انکا موقوف محض بدنیتی پر مشتمل ہے۔

  11. حرف حق says:

    رہی بات مولانا مودودی علیہ الرحمۃ کی، تو یہ اہل پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ فرقہ پرست حکومتی وظیفہ خوار ملاؤں نے ان کی قدر نہیں کی ۔۔جب انہیں اپنے تکفیری رنگ میں نہ رنگ سکے تو پھر ان پر بھی فتوے لگانا شروع کر دیئے۔ مولانا جیسی نابغہ روزگا ہستیاں روز روز جنم نہیں لیتی۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>