صفحہ اوّل » کاشف نامہ

پیپلز پارٹی کا جلسہ عام

مصنف: وقت: ہفتہ، 18 اکتوبر 20142 تبصرے

124ماننا پڑے گا کہ ایک بہت بڑا اور پرجوش اجتماع تھا، باغ جناح اور اسکے ساتھ منسلک سڑک پیپلزپارٹی کے جیالوں سے مکمل طور پر بھری ہوئی تھی جب کہ مزید قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق شرکاء کی تعداد اسی ہزار سے ایک لاکھ  کے درمیان تھی۔ نوے فیصد شرکاء اندرون سندھ کے دیہاتی تھے باقی ملیر، لیاری اور گڈاب کے بلوچ، پٹھان اور سندھی جنکی غالب اکثریت ناخواندہ اور غریب معلوم ہورہی تھی۔ شہر  قائد میں آباد مسیحیوں کی بھی بڑی تعداد نظر آرہی تھی جو صلیب اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔ کراچی کے اردو بولنے والی مڈل کلاس (ناظم آباد، گلشن، ملیر، کورنگی اورنارتھ کراچی وغیرہ) اور منہ بگاڑ کر انگریزی بولنے والے برگر کلاس (ڈیفنس، کلفٹن اور سوسائٹی کے بچے بچیاں) کہیں بھی نظر نہ آئے۔

جلسے میں پیپلزپارٹی کے روایتی نعروں کے علاوہ کچھ شرارتی جیالے “رو عمران رو” اور “گو نواز گو” کے نعرے بھی لگارہے تھے۔ ہیلی کاپٹر پر بلاور بھٹو نے گراونڈ کا چکر لگایا تو شرکاء کے جذبات دیدنی تھے، بس نہیں چلتا تھا کہ جیالے اپنا دل کھول کر رکھ دیں۔ دوسری طرف اندرون سندھ سے آئے ہوئے ہزاروں دیہاتی جلسہ گاہ کے باہر مزار قائد کے سبزازار میں سستا رہے تھے جن میں سے سینکڑوں فواروں کو سوئمنگ پول سمجھ کر اس میں غوطہ لگارتے نظر آئے۔ شرکاء کی ایک بہت بڑی کراچی کی تفریح گاہوں اور بازاروں میں بھی گھومتی پھرتی نظر آئی۔

سیکورٹی کے انتظامات انتہائی اعلی اور فل پروف تھے۔ جلسہ گاہ میں داخل ہونے کے لئے سیکورٹی کے تین حصار سے گزرنا پڑا، دو پولیس کے اور ایک پیپلزپارٹی کے ذمہ داروں کا۔ ساونڈ سسٹم پورے مجمع کو کور نہیں کرسکا، خاص طور پر مجمع کے آخری حصے میں آواز نہ ہونے کہ برابر تھی۔ مجموعی طور پر انتظامات اچھے تھے لیکن پیپلزپارٹی کا DJ ابھی تحریک انصاف کے DJ سے بہت پیچھے ہے۔  جلسے کے مختلف حصوں میں جیالے ٹولیوں کی صورت میں رقص کرتے اور بھنگڑے ڈالتے بھی نظر آئے۔ جلسہ گاہ کے باہر مختلف اسٹالز موجود تھے جن میں پیپلزپارٹی کے جھنڈوں والے کیپ اور بیجز فروخت ہورہے تھے۔

اگر اس جلسہ عام کا تقابل حال ہی میں ہوئے تحریک انصاف کے جلسے  سے کیا جائے تو تعداد کے اعتبار یہ جلسہ بڑا تھا لیکن تحریک انصاف کا جلسہ اس حوالے سے بہتر تھا کہ وہ مختصر نوٹس پر ہوا، صرف کراچی بیس تھا، کوئی سرکاری اثر رسوخ شامل نہ تھا اور اس میں  پڑھے لکھے نوجوان کی کثیر تعداد شامل تھی، اگر اسکا تقابل پیپلز پارٹی کے ہی 18 اکتوبر 2007 کی استقبالی ریلی سے کیا جائے تو یہ جلسہ اسکا عشراشیر بھی نہ تھا اور اگر اسکا مقابلہ مولانا فضل الرحمان کے “اسلام زنداباد جلسہ عام 2012″، ایم کیو ایم کے “خواتین اجتماع عام 2012” اور جماعت اسلامی کے غزہ مارچ 2014 سے کیا جائے تو یہ جلسہ ان جلسوں کا نصف  تھا لیکن ان سب کے باوجود عددی اعتبار سے یہ جلسہ عام، شہر قائد کے چند بڑے سیاسی جلسوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

فیس بک تبصرے

2 تبصرے برائے: پیپلز پارٹی کا جلسہ عام

  1. حمزہ says:

    آزاد کشمیر کے جھنڈے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ ۔ مطلب ہمارے ہاں سے بھی جیالوں نے کراچی کا رخ کیا تھا۔

  2. Vishal Nain says:

    ایم کیو ایم کا خواتین جلسہ اس مقام پر ہی نہیں بلکہ کسی بھی مقام پر ہونے والے کسی بھی جلسے سے بہت بڑا تھا۔ جن جلسوں کا آپ نے ذکر کیا ان کسی بھی صورت ایم کیو ایم کے جلسے سے تقابل نہیں کیا جا سکتا۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>