صفحہ اوّل » کاشف نامہ

تحریک انصاف کی ہڑتال

مصنف: وقت: جمعہ، 12 دسمبر 20141 تبصرہ

1ذرائع ابلاغ اور صوبائی حکومت کے بهرپور تعاون سے آج دن بهر جو شو چلتا رہا، اس سے کافی بہتر شو اہلسنت والجماعت، سنی تحریک  اور مجلس ملی وحدت ایسی جماعتیں کرسکتی ہیں۔ صبح سے شام تک شہر بھر کے  25  مقررہ مقامات پر دهرنوں کی یہ کیفیت تهی کہ ماسوائے شیر شاہ چوک اور تین تلوار کے کسی بهی جگہ مظاہرین کی تعداد دو درجن سے زیادہ نہ ہوئی جبکہ شام کے آخری پہر شاہرائے فیصل پر ہونے والے جلسے میں  عمران خان  اور انکی پوری مرکزی قیادت کی موجودگی کے باجود شرکاء کی تعداد  5000 سے 6000 کے درمیان رہی۔ دوسری طرف رکاوٹوں اور میڈیا پینیک کے باوجود شہر کے اکثر کاروباری مراکز اور بازار کھلے رہے البتہ سندھ حکومت کے بروئے کار آنے کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ  شہر بھر کہ تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔

تحریک انصاف نے اپنے ہڑتال کو”لاک ڈاون کراچی” کا نام دے کر دعوا کر رکھا تھا کہ وہ پورا شہر بند کر دیگی۔ اس دعوے کو عملی جامعہ پہنانے کے لئےایک تین نکاتی ورکنگ پلان ترتیب دیا گیا تھا۔ اول  تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹرز اور لیبر یونین سے رابطہ کرکے انہیں کاروبار بند رکھنے پر آمادہ کیا جائے، دوم میڈیا، سوشل میڈیا اور اسٹریٹ میڈیا کےذریعے عوام الناس کی ہڑتال کے حق میں ذہن سازی  کی جائے اور سوم شہر بھر سے 25 اہم  اور مرکزی  مقامات پر دھرنے دے کر پورے شہر کی نقل و حرکت کو عملا  منجمد کردیا جائے۔ میرے خیال سے کراچی جیسے شہر میں  کسی بھی ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے یہ ایک شاندار ورکنگ پلان تھا  لیکن اپنی تنظیمی خامیوں کے باعث تحریک انصاف اسے صحیح معنوں میں عملی جامع پہنانے میں ناکام رہی۔ تحریک انصاف کا یہ المیہ ہے کہ ایک خالص شہری اور ورکنگ کلاس کی جماعت ہونے کے باوجود تنظیمی اعتبار سے  انتہائی ناقص واقعی ہوئی ہے ۔ یہی  تنظیمی کمزوریاں آج ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہیں۔  اوپر کی سطح پر پلان تو بنالیا گیا لیکن نچلی سطح پر اسکی ایگزیکیوشن پلاننگ نہیں ہوئی، نہ ہی افقی اور عمودی سطح پر ذمہ داریوں کا تعین ہوا اور نہ ہی عمران خان کے جلسے  کے مقام اور وقت کا قبل از وقت  اعلان کیا گیا ۔

نتیجے کے طور پر کس ذمہ دار نے کونسے مقام پر ڈیوٹی دینی ہے اور اس نے کس طرح مقررہ  مقام پر لوگوں کو جمع کرنا ہے اس حوالے سے آخری وقت تک اشکال رہا۔  پلان کے مطابق 25 مقامات تھے لیکن کئی مقامات پر لوگ جمع نہ ہوسکے۔  صبح  دفتر جاتے ہوئے مجھے  تین ممکنہ رکاوٹوں کو عبور کرنا تھا، پہلی دو ممکنہ رکاوٹ یعنی پاور ہاوس  چورنگی، نارتھ کراچی اور فائیو اسٹار چورنگی، نارتھ  ناظم آباد میں نے بغیر کسی مزاحمت کے عبور کرلی کیونکہ دونوں مقامات پر کوئی دھرنا یا  کوئی انصافیہ سرے سے موجود ہی نہ تھا جبکہ تیسری رکاوٹ پر میرا سامنا ایک سے دو درجن نوجوانوں سے ہوا جو سڑکوں پر ٹائر جلارہے تھے اور ڈنڈوں سے آگے بڑھنے والی گاڑیوں کو واپس پیچھے کررہے تھے۔ میں راستہ بدلتے ہوئے دوسرے موڑ سے باآسانی دفتر پہنچ گیا۔ سائٹ کے جس علاقے میں میرا دفتر ہے وہاں تمام کارخانے، فیکٹریاں اور دفاتر معمول کے مطابق کام کررہے تھے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ میرے جاننے والے اکثر انصافیے اپنے اپنے دفاتر میں موجود تھے۔

اگیارہ سے بارہ بجے کے درمیان کورنگی کے علاقے میں ایک ٹیکسی کو نظر آتش کئے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں اور اسکے بعد کئی اور مقامات سے بھی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ جمعے کا دن ہونے کی وجہ سے یہ دھرنے دوپہر بارہ بجے تک عملی طور پر ختم کردئے گئے اور  نماز جمعہ کے بعد انہیں صرف تین سے چار مقامات پر دوبارہ شروع کیا گیا۔ ایک بڑی کنفیوزن عمران خان صاحب کے خطاب سے متعلق تھی،  شیر شاہ چوک پر دو ہزار کا مجمع تھا جو ناز بلوچ کا خطاب سن کر گھر جاچکا تھا، اسی طرح  ہزار دو ہزار کا مجمع تین تلوار پر خان صاحب کا منتظر تھا۔ شام چار بجے تک یہ پوزیشن واضع نہیں تھی اور صرف ایک گھنٹہ قبل نرسری، شاہرائے فیصل پر خطاب کا باقاعدہ فیصلہ ہوا جہاں اس وقت تک صرف چند درجن مظاہرین دہرنا دئے بیٹھے تھے۔ چنانچہ جب خان صاحب شاہرائے فیصل پر خطاب فرمارہے تھے تو جلسے کے شرکاء کی تعداد 5000 سے 6000 کے درمیان تھی اور اس جلسے کی مجموعی لمبائی دو سو میٹر سے کم تھی۔

شہر قائد میں دو بڑے جلسے کرکے یہاں کی سیاسی ڈائنامکس پر اثر انداز ہونے والی جماعت کے لئے آج کی کارکردگی لمحہ فکریہ ہے۔ بڑے پیمانے پر لوگ بروئے کار نہ آسکے اور افسوسناک بات یہ ہے کہ تشدد، دھونس اور زبردستی کا استعمال ہوا۔ سڑکوں پر ٹائر جلانا، سڑکیں بلاک کرنا، ڈنڈے اور پتھروں سے ٹریفک کو منتشر کرنا اور کسی میڈیا ٹیم کا گھیراو کرنا ایسے عوامل ہرگز  پر امن اور جائز قرار نہیں دئے حاسکتے ہیں چاہے وہ جس درجے پر بھی ہو کیونکہ مععولی جرائم ہی بتدریج بڑے جرائم کا سبب بنتے ہیں۔ میری شدید خواہش ہے کہ کراچی کے شہریوں کو بهی ایک متبادل آپشن ملے تاکہ یہاں کی سیاست میں بهی مقابلے کی کیفیت پیدا ہو اور کسی ایک سیاسی جماعت کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوا ہو لیکن تحریک انصاف کے آج کے فلاپ شو اور تشدد کے رجہان نے میری اس رائے کو مزید پختہ کردیا ہے کہ مستقبل قریب میں کراچی میں سیاسی اجارہ داری کا خاتمہ اور متوازی سیاسی ماحول کا قیام ہوتا نظر نہیں آرہا۔

فیس بک تبصرے

1 تبصرہ برائے: تحریک انصاف کی ہڑتال

  1. Vishal Nain says:

    یہ ایک اچھی تحریر ہے لیکن اس میں تاثر یہ دیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی ہڑتال انکی اپنی تنظیمی ناکامی کے باعث غیر مؤثر رہی۔ گویا اگر یہ تنظیمی خرابیاں نہ ہوتیں تو یہ ہڑتال کامیاب ہوجانی تھی۔۔۔ ایسا ہرگز نہیں ہے! ہڑتال کی ناکامی کا واحد سبب یہ تھا کہ کراچی کے عوام نے اسے قطعی مسترد کردیا تھا اور کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سیاسی پارٹی کراچی کے عوام سے نہ تو کوئی ہمدردی رکھتی ہے اور نہ ہی یہ اس قابل ہے کہ اس پر یا اسکے لیڈر پر اعتبار کیا جا سکے۔ کراچی کے عوام صرف اور صرف الطاف حسین کو ہی اپنا رہنما اور مخلص لیڈر سمجھتے ہیں۔ اس صورتحال میں کسی بھی پارٹی کیلئے شہر کو بند کرادینا ممکن نہیں ہے۔
    یہ بھی یاد رکھیں کہ اگر کہیں پی ٹی آئی کے ورکرز نے سڑکیں بند کرائی ہیں تو یہ بھی اس وجہ سے ممکن ہو سکا کہ جناب الطاف حسین نے پی ٹی آئی کو شہر میں سہولتیں دکنے کا عندیہ دے دیا تھا۔ اس کے علاوہ کراچی کے شہری ملک بھر میں سب سے زیادہ کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنے والے لوگ ہیں حالانکہ انہیں کبھی اس کا اچھا بدلہ نہیں دیا گیا۔ اگر کراچی کے شہریوں کی مرضی اور قائد کا اشارہ نہ ہوتا تو یہ لوگ ایک گلی بھی بند نہیں کر سکتے تھے۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>