صفحہ اوّل » فیچرڈ کیٹگری, کاشف نامہ

سانحہ قصور اور دکانداری

مصنف: وقت: جمعرات، 11 جنوری 2018کوئی تبصرہ نہیں

ایک وہ عام آدمی ہے

!جو ایسے سانحات سے لرز اٹھتا ہے!!

اور ایک گورکن، کفن بیچنے والا ہوتا ہے۔ اسکے لئے یہ روز کی روزی روٹی ہے۔ ہم دانشگرد اور میڈیا والے بھی اسی قسم کے لوگ ہیں!!!

ہم میں سے کچھ کہیں جذبات کی سودا گری اور آنسووں کی دکانداری کررہے ہیں، کچھ کہیں پورے قصے کو اپنے اپنے ذہنی سانچے میں ڈھال کر نظریاتی جنگ میں بروئے کار لارہے ہیں اور کچھ کہیں اپنے سیاسی مخالفین پر کیچڑا اچھالنے کیلئے ایک اور بہانہ بناچکے ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کا اخبار نویس کسی مجلس شام غریباں کے زاکر اور ڈرامہ نویس سے کم نہیں مگر متبادل میڈیا بھی اسی روش پر چل نکلے تو باقی کیا بچتا ہے! ریٹنگ کی ڈور میں وہ تمام باتیں اہم ہیں جس سے دیکھنے، سننے اور پڑھنے والا بے ساختہ رو پڑے۔ ہاں، جذباتیت ایک علیحدہ مسئلہ، سو اسکو چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔

ایک صاحب نے مرض کی تشخیص یوں کی کہ ہمارا سماج اور مذہبی بیانیہ عورت ذات کو سیکس ابجیکٹ کے طور پر پیش کرتا ہے۔

دوسرے صاحب کا کہنا ہے کہ خلافت میں ایسا نہیں ہوتا، انکی پوسٹ پر انکے ایک دوست کہتے ہیں کہ شرعی سزائیں روک کر ایسے جرائم کو فروغ دیا جارہا ہے۔ وہیں ایک نوجوان کے مطابق فحش فلمیں نہ ہوتیں تو مجرم کے دل میں کبھی ایسے پراگندہ خیالات جنم نہ لیتے۔

فیکس اٹ نامی این جی او کے مطابق یہ سیاسی مسئلہ ہے۔ تخت پنجاب پر قابض نواز شریف اور رانا ثناء اللہ اسکے ذمہ دار ہیں۔ انکی پوسٹ پر ن لیگ کے حامی ڈیرہ اسماعیل خان کے سانحے میں تحریک انصاف کا ہاتھ ڈھونڈتی نظر آئے۔

غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

جو عورتوں سے متعلق مذہبی بیانیے کو مورد الزام ٹھرارہے ہیں انکو کون بتائے کہ چائلڈ ابیوز کے زیادہ تر کیسز کا شکار کم عمر لڑکے ہوتے ہیں۔ مزید یہ انگلستان، آسڑیلیا، امریکہ اور روس ایسے ممالک جو چائلڈ ابیوز میں سرفہرست گنے جاتے ہیں، وہاں کیا مسئلہ ہے؟

جو خلافت اور شرعی سزاوں کو حل سمجھتے ہیں، کوئی ان سے پوچھے کہ کیا زمانہ خلافت چائلڈ ابیوز سے پاک تھا؟ نیز حدود آرڈینینس کا مطالعہ کرلیں۔ تمام سزائیں موجود ہیں۔

یقینا حکمران بہرحال ذمہ دار ہیں۔ صرف ن لیگ نہیں، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف بھی۔ کوئی پوچھے چائلڈ ابیوز پر ان میں سے کس نے کام کیا؟ سیکڑوں کی تعداد میں جو سانحات اب سے بیشتر رونما ہوچکے، انکا فالو اپ کیا ہے؟ حکومت، استغاثہ اور عدلیہ؟ مذمتی بیان، سو ٹو اور ٹوئٹ سے آگے کیا ہے۔

آپ چائلڈ ابیوز کے ضمن مین دنیا کے دس بدترین ممالک میں شامل ہو۔ مگر ایک بظابطہ ادارہ، مسئلے کی ان دیپتھ سائنٹیفک تشخیص اور مستقل حل کے لئے قابل عمل راستہ، اس پر کون کام کرے۔!

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>