صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

دعوت فکر

مصنف: وقت: منگل، 11 ستمبر 201220 تبصرے

اب وقت آگیا کہ پڑھے لکھے مذہبی طبقے کے درمیان کچھ ایسے موضوعات پر سنجیدہ گفتگو اور ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہو جن پر دانستہ خاموشی اور چشم پوشی اختیار کرلی گئی ہے، مذہبی طبقے کا یہ رویہ عام اور کم پڑھے لکھے اسلام پسندوں کے لئے جہاں غلط فہمی اور گمراہی کا سبب بن رہا ہے وہیں ہمارے معاشرے کو مزید تقسیم، تشدد اور عدم برداشت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ جی ہاں، توہین مذہب و رسالت ، قتل واجب، خروج ،تکفیر، فتوا ، فدائی حملے ایسے موضوعات۔آپ حیران ہونگے اور اکثر معترض بھی کہ میں ان موضوعات پر بحث کیوں چھیڑنا چاہتا ہوں جو اپنے تئے حل شدہ تصور کرلئے گئے ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ میں پاکستانی معاشرے سے اوکتا چکا ہوں اور مجھے اپنے ارد گر موجود “ثواب” پسندی،کج فہمی، کم علمی، عدم برداشت، جزباتیت اور پرتشدد رجہانات سے وحشت ہونے لگی ہے اور ان حالات میں میرے پاس دو ہی راستے کہ خود کو اس معاشرے سے بے نیاز کرلوں یا خود احتسابی کے عمل میں شامل ہوجاوں سو میں نے خود احتسابی کا راستہ چنا ہے، میں ایک ایسے معاشرے کا متلاشی ہوں جہاں علم، تحقیق، بردباری، حکمت، دلیل اور انصاف کا بول بالا ہو نا کہ جذبات، منافقت، ہوس، عدم برداشت، بے حودگی اور مسخرے بازی کا ۔

میری یہ حیثیت اور مرتبہ نہیں کہ میں علماء کرام پر تنقید کروں لیکن انہیں خود اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ ایک عالم کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ قرآن و سنت کے روایتی درس و تبلیغ میں مصروف عمل رہے بلکہ حالات و واقعات کا ٹھیک ٹھیک علم رکھنا اور ان پر شرعی رائے دینا بھی ان ہی کا کام ہے اگر وہ ان امور سے صرف نظر برتے گے اور عوام کی درست کی سمت پر رہنمائی نہیں کریں گے تو مذہب پر عمل کرنا مشکل ہوتا جائے گا اور لوگ مذہب سے بدذن ہوکر بے دین اوربددین ہونے لگیں گے۔ مختصر یہ کہ توہین مذہب، توہین قرآن ، توہین صحابہ، توہین رسالت ، قتل واجب، خروج ،تکفیر، فتوا ، فدائی حملے ایسے موضوعات پر اگر علماء نے دلیل اور منطقی انداز میں بحث نہیں کی تو غامدی صاحب ایسے تجدد پسند مفکرین کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا رہے گا۔ اور انہیں موقع کیوں نہ ملے کہ جب سلمان تاثیر کو گستاخ رسول اور کافر قرار دیکر قتل کردیا جائے اور علماء خاموش رہیں، قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر کسی دیوانے کو زندا جلایا جائے اور علماء خاموش رہیں، شیعوں کو بلا تخصیص بسوں سے اتار کر قتل کیا جائے اور علماء خاموش رہیں، لوگ حدود اور تعزیر اپنے ہاتھ میں لے لیں اور قاضی بن کر حدجاری کریں اور علماء خاموش رہیں۔ یہ کیسی مروت ہے کہ کل کے کچھ بچے اپنی نہ سمجھی میں مجاہدین کے صف میں شامل ہوکر خارجیوں کی سنت کو زندا کریں ، مار دھاڑ اور تکفیر بازیں کریں اور علماء کے سکوت کو اپنی ہم نوائی یا انکی کمزوری سمجھ کر شدت اور تشدد میں بڑھتے جائیں۔ خدارا علماء آگے آئیں، سازش سازش کی رٹ لگانے کے بجائے ان موضوعات پر کام کریں اور کم علم اور جذباتی جنگجوں کو جہاد کی تعلیم دیں۔ آخر علماء کیوں نہیں بتاتے کہ فقہ حنفی میں سوائے گستا خ رسول اور مرتد کے کسی کو واجب القتل قرار نہیں دیا جاسکتا اور یہ کہ سوائے لعین اور شقی گستاخ رسول کے ہر ایک کو توبہ کا موقع دیا جانا چاہئے اور یہ کہ قتل واجب حد نہیں تعزیر کے حکم میں ہے اور یہ کہ حد اور تعزیر دونوں شرعی حاکم اور شرعی قاضی کے اختیار میں ہیں نہ کے ہر عام و خاص کے تصرف میں۔

دو سال پہلے حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار پر ہوئے خود کش حملے پر میں نے چند خطروں کی طرف نشاندہی کی تھی اور بدقسمتی سے میرے خدشات درست نکلے۔ مدرسے کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر جہاد کا راستہ اختیار کرنے والے طلبہ اپنے ناپختہ خیالات، فرقہ وارانہ پس منظر، کم علمی اور جذباتی ہجان کے باعث شدت پسندی کی طرف مائل ہوئے تو انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی گئی تاوقت کہ وہ زور آور اور زور دست ہوتے چلے گئے۔ انکی زورآوری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جن علماء نے سعی کی اور میدان عمل میں نکلے ان کے سامنے مولانا حسن جان (دیوبندی) اور مفتی سرفراز نعیمی (بریلوی) کی مثالیں قائم کردی گئیں اور مفتی تقی عثمانی، مفتی رفیع عثمانی، عبدالرحمان اشرفی، قاری حنیف جالندھری اور مفتی زاہد الراشدی ایسے علماء جو لاتعلق ہو کر ایک طرف ہوگئے کے لئے درباری علماء جیسے القابات سہولت سے استعمال کئے گئے۔ واضع رہے کہ شدت پسند نظریات لشکر جھنگوی اور لشکر جھنگوی العالمی کی صورت میں جنوبی پنجاب سے قبائلی علاقوں کی طرف اور جند اللہ کی شکل میں ایرانی بلوچستان سے پاکستانی بلوچستانی کی طرف برآمد کی جارہی ہے اور ایسے تمام گروہ علماء سے سخت عداوت اور فاصلہ رکھتے ہیں۔ڈیڑھ سال پہلے میں نے باوجود ممتاز قادری سے عقیدت کے جزبے کہ ایک گروہ کی طرف سے سلمان تاثیر کی تکفیر، قتل کے فتووں اور بعد ازاں انکے قتل پر بھی سدا احتجاج بلند کیا تھی اور انہی دنوں میں نے مسئلہ تکفیر پر بھی لکھا اور شیعوں کی تکفیر سے متعلق علمائےاہل سنت کے نام نہاد اجماع کو بھی فریب ثابت کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سنجیدہ مذہبی طبقے کوبڑھتی ہوئی شدت پسندی کے خلاف کھل کر بات کرنی چاہئے لیکن افسوس کے علماء کی طرف سےایسا نہیں ہورہا اور کم پڑھے لکھے مسلمان اسے خاموش تائید سمجھ رہے ہیں۔ کوئی ثواب فیکڑی کا حصہ ہے، کوئی شیعوں کے قتل پر مبارکبادی کے ایس ایم ایس بھیج رہا ہے، کوئی بارہ سالہ مسیحی لڑکی کے خلاف تحریک چلا رہا ہے، کوئی برما کے مسلمانوں پر بیتے حالات کو اجاگر کرنے کے لئے جعلی تصاویر ایڈ کررہا ہے اور کہیں ہزاروں کا بے نمازی اور تارک القرآن مجمع قرآن کی بے حرمتی کے نام پر خبط الحواس شخص کو زندا جلارہا ہے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ناصرف کم پڑھے لکھے مذہبی نوجوان بلکہ اکثر اعلی تعلیم یافتہ اور سنجید ہ مذہبی لوگ بھی دلیل اور منطق سے ہٹ کر سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھادیتے ہیں اور حق تحقیق ادا نہیں کرتے۔کسی قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اسے پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی، کسی مدمقابل پر تنقید کرتے ہوئے اسے جاننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور کسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاق و ثباق کو سمجھنے اور خبروں کے ہر رخ کو دیکھنے کی جسارت نہیں ہوتی۔اکثر مذہب کے دفاع کی کوشش میں بے تکی توجیہات، غیر ضروری استدلال ،جھوٹی تعبیرات اورمن ڈھرک واقعات سے کام لیتے ہیں۔ سیدھی اور سچی باتوں سے پرہیز کرتے ہوئے کبھی کسی کے ختنوں، کبھی کسی کی بسلیٹ اور کبھی کسی ریمنڈ ڈیوس کے پیچھے چھپتے ہیں ، نتیجے کے طور ناصرف خود مزاق بنتے ہیں بلکہ مذہب کا بھی مزاق اڑواتے ہیں۔ نیل کے ساحل سے کاشغر کے فلسفے کا ترانے گاتے ہیں لیکن جب بھی موقع ملتا ہے، فرقہ وارانہ اور فروعی بحث و مباحثہ میں الجھتے ہیں اور انہی فروعات کو اپنا اٹھنا بیٹھنا بنا لیتے ہیں اس لئے کبھی مسلک کی سطح سے اوپر اور اور جماعت کی سطح سے بالا نہیں ہو پاتے۔

گفتگو سمیٹنے ہوئے یہ حقیقت بھی بیان کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں لاقانونیت، عدم برداشت اور تشدد مذہب پسندوں سے خاص نہیں ہے، کیونکہ معاشرے کےدیگر طبقات مذہب پسندوں سے کہیں زیادہ ان بیماریوں کا شکار ہیں ، کراچی کی مثال لی جاسکتی ہے جہاں ہر روز درجنوں جانیں لسانیت کی نظر ہوتی ہیں، دیہی علاقوں کی مثال لی جاسکتی ہے جہاں آج بھی کاری کمینوں کے ساتھ وڈیروں کا سلوک غیر انسانی ہے، بلوچستان کی مثال کی جاسکتی ہے جہاں ارکان اسمبلی بھی خواتین کو زندا درگور کرنے کے حامی پائے جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی ، اے این پی اور پیپلز پارٹی کی مثال لی جاسکتی ہے جو ایک طرف سیکولر نظریات کی علمبردار ہیں تو دوسری طرف پرتشدد سیاست میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں، بلوچ لبرشن آرمی کی مثال لی جاسکتی ہے جو اپنے لئے تو حقوق مانگ رہی ہے لیکن غیر بلوچوں کو بلوچستان میں رہنے کا حق دینے کے لئے تیار نہیں چاہے انہیں اسکے لئے بسوں سے اتار کر بے کس لوگوں کو ہی کیوں نہ مارنا پڑے۔ روشن خیالوں کی مثال لی جاسکتی ہے جو دلیل، منطق اور بردباری کو پس پشت ڈال کر مذہبی انتہاپسندوں کا تمسخر اڑاتے نہیں تھکتے، جو تیس سال امریکہ کو کوسنے کے بعد اب اسے امن کا ہار ڈالنے، تہذیب کا تمغہ پہنانے اور علم و دانش کے علم پکڑانے میں کوئی شرم، کوئی حس اور کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔ جو خود کش حملوں پر روتے ہیں اور ڈرون حملوں پر چہکتے ہیں، جو شکیل آفریدی کا ماتم کرتے ہیں اور عافیہ صدیقی کو گالی دیتے ہیں اور جنہیں شدت پسندوں کے لئے ڈائیلاگ کے راستے مفقود کرتے ہوئے خود اپنے بنائے ہوئے اصولوں کا بھی پاس نہیں رہتا۔

گویا، کیا رو شن خیال ، کیا اعتدال پسند اور کیا مذہب پرست کج فہمی، کم علمی، عدم برداشت، جزباتیت اور پرتشدد رجہانات ہمارے پورے معاشرے میں سرائیت کرچکی ہے۔ جب ایٹمی سائنس دان صوفیہ کے متنازعہ قصے سنائیں، جب جیو ٹی وی چینل مائیکل جیکسن اور نیل آرمسٹرانگ سے کلمہ پڑھاوالیں، جب کامران خان دنیا کے “سب سے پہلے” قرآنی سافٹ وئر کی اشتہار سازی کریں، جب حامد میر پانی سے گاڑی چلو ائیں اور جب ثنا بچہ اصلی رمشاہ مسیح کے جعلی تصویر جاری کریں تو عام معاشرے کا بھی حال ہونا ہے۔یعنی کوئی چین سے پانچ روپے فی مکان کے حساب سے بجلی خرید رہا تو کوئی موبائل فون ہیکر سے ڈرا رہا ہے اور کوئی قریب آتی کسی بھی ایمبولینس سے چاہے اس میں کوئی خاتون ہی کیوں نہ ہوں۔ یہاں تک کہ علم و دانش کی درسگاہوں، صحافتی اور خبر رساں کے اداروں اور علماء و دانش وروں کی محفلوں میں بھی تحقیق کی روش اوٹھ چکی ہے اورسنی سنائی باتوں پر ردعمل ہوتا ۔ ان حالات میں میرے پاس دو ہی راستے کہ خود کو اس معاشرے سے بے نیاز کرلوں یا پھر خود احتسابی کے عمل میں شامل ہوجاوں سو میں نے خود احتسابی کا راستہ چنا ہے، میں ایک ایسے معاشرے کا متلاشی ہوں جہاں علم، تحقیق، بردباری، حکمت، دلیل اور انصاف کا بول بالا ہو نا کہ جذبات، منافقت، ہوس، عدم برداشت، اور مسخرے بازی کا ۔

فیس بک تبصرے

20 تبصرے برائے: دعوت فکر

  1. gold price says:

    Thus I grew up with this belief, like any other youth in our town. We were all – praise be to Allah – Sunni Muslims following the teaching of Imam Malik ibn Anas, Imam of Dar al-Hijra. However, we, in North Africa, are divided in our Sufi orders. For example in Gasfa alone there are al- Tijaniyya, al-Qadiriyya, al-Rahmaniyya, al-Salamiyya and al-Isawiyya. For each of the above orders, there are followers and supporters who could recite the order, poems and Dhikrs (invocation of God) in all special ceremonies such as weddings, circumcisions and vows. Apart from some negative aspects, these Sufi Tariqas played an important role in preserving the religious rites and in maintaining the respect for the sages.

  2. دل سے لکھی گئی تحریر ہے۔
    بہت خوب
    بحرحال میں تو بلاگ لکھنے تک خود احتسابی کرتا ہوں
    باقی پاکستانی اور پاکستانی کے معاشرے بے نیاز رہنے کی ہتم الامکان شدید کوشش کرتا ہوں۔

  3. بہت خوب
    یہ آپ کے دل کی آواز ہے۔
    ہر اس شخص کے دل کی بھی آواز ہے ۔
    جو چند دنوں کی زندگی احسن طریقے سے گذارنا چاہتا ہے۔
    بلاگ لکھنے تک تو میں خود احتسابی کرتا ہوں۔
    اس کے علاوہ میں تو پاکستانی معاشرےسے بے نیاز ہوں۔

  4. عثمان says:

    میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
    اسی مولوی صیب سے فیر فتویٰ مانگتے ہیں 😀
    یار عزیز من،
    کچھ سمج نئیں آیا۔ کہ مولانا حضرات عرف علماء کرام کا تو پہلے ہی بہت کریا کرم ہے اس معاشرے پر۔ عرض ہے کہ ہور کی چائیدا ؟ زہر کا تریاق مزید زہر ؟؟
    یہ سلمان تاثیر کے قتل سے قبل کالعدم تنظیموں کے غیر کالعدم مولانا حضرات کےجتھے نیک کام انجام دینے کے لئے سڑکوں پر خجل ہوتے پھرتے تھے۔ اب ان سے کیا شکایت ہے ؟

    • یار اس نقطہ پر بہت طویل بحث ہوسکتی ہے کہ اصل بیماری کا سبب کون ہے لیکن میں کم از کم اس گفتگو میں موضوع کا رخ موڑنا نہیں چاہتا۔ سلمان تاثیر کی تکفیر اور انکے خلاف قتل کےفتووں کی میں نے ہمیشہ ہی سخت مخالفت کی ہے، لیکن ممتاز قادری سے عقیدت رکھنا اور چیز ہے۔

  5. بھئی آپ ضرور خود احتسابی کریں ۔ ایسا کر لینگے تو آپ یقینا کوئی نیا اور یونیک ایجنڈا بھی لے کر سامنے آ جائیں گے ۔ جس سے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد پڑنے کی ایک نئی امید کی کرن نکلتی ہوئی محسوس گی کے اس جہان میں آپ کے دم سے ہی علم، تحقیق، بردباری، حکمت، دلیل اور انصاف کا بول بالا ہوگا ۔
    اگر یہ بس میں نہیں ہے کے تو پھر صرف دھمکیوں کے زور ایک معاشرے کو اپنی لیڈرشپ ایکسیپٹ کرنے پر مجبور نا کریں جہاں بس جذبات، منافقت، ہوس، عدم برداشت، اور مسخرے بازی کے مظاہروں نے ہی چلتے رہنے ہیں ۔

  6. ہممم۔۔۔۔ بے شک ہمیں اسی سوچ اور طرز فکر کی ضرورت ہے لیکن ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ انٹرنیٹ خاص طور پہ فیس بک سے اخذ کردہ معلومات کی بناء پر فتوے، الزامات، بیانات داغ دیتے ہیں، ایسے معاشرے میں اس سوچ کو پھیلنے میں بھی ایک زمانہ لگنے والا ہے۔ میری فیس بک وال ایسی ہزاروں پوسٹوں سے بھری ہوتی ہے جن میں عجیب و غریب قسم کی معلومات اور خبروں کو جواز بنا کر اس سے بھی زیادہ عجیب نتائج اخذ کئے جاتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا کرنے والے لوگ کوئی فئے یوزرز یا نیم پڑھے لکھے نہیں بلکہ خاصے تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔

  7. خالد حمید says:

    صرف باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سب کی طرح

  8. بنیاد پرست says:

    جناب علما تو ھر دو صورتوں میں بدنام ھوتے ہیں ، آپکا میڈیا پہلے تو انہیں فتنہ باز اور غامدی جیسے لوگوں کی طرح کوریج دیتا ہی نہیں، اگر دیتا ہے تو ان کے بیانات کو توڑ موڑ کر اور اپنی مرضی کے مطابق بنا کر پیش کرتا ہے، جیسے تقی عثمانی صاحب کا حدود آرڈینس پر جیو چینل کو دیا گیا انٹرویو چینل نے ایڈٹ کرکے بالکل اپنی ضرورت کے مطابق بنا کر پیش کیا تھا اس لیے بڑے علما عموما میڈیا پر آنے سے گریز کرتے ہیں، اس پالیسی کو دیکھ کر آپ جیسے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ دوسرے مقامات پر اپنی تحریروں، تقریروں میں بھی اس متعلق اپنی ذمہ داری نہیں پوری کر رہے، صرف روایتی کاموں میں لگے ھوۓ ہیں دوسری طرف اگر کوئ ٹی وی چینل مکس قسم کے ملاوں کو جمع کرکے دینی مسائل پر مذاکرہ کرا بھی دے تو عثمان کی پارٹی چلانے لگ جاتی ہے کہ ملک کس تنزلی کی طرف جا رہا ہے، گوادر میں انکی آپی کو دوپٹے کے بغیر پھرنے اور بوتھا شریف نکال کر جلوے دکھانے سے روکا جا رھا ہے اور علما بحثوں، مناظروں میں پڑے ہوۓ، ہیں…
    جہاں تک ان مسائل پر تحقیق کی بات ہے تو وہ ھر لحاظ سے مکمل اور بہت پہلے ہوچکی ہے، مفتی تقی عثمانی صاحب جنہیں آپ نے کسی مجہول، اجہل بندے سے سن کر یا جان بوجھ کر درباری علما میں شامل کیا ھے انکی بھی کئی معقولی اور منقولی دلائل سے لبریز تحریریں اور تقریریں ان مسائل پر موجود ہیں، زاہد الراشدی صاحب کے ان کی سائیٹ اور ماہنامہ الشریعہ اور روزنامہ اسلام میں ان مسائل پر چھپنے والے کئی کالم میری نظروں سے بھی گزرے ہیں، ان لوگوں کا سوات، پاکستانی طالبان اور مسلمانوں پر خودکش حملوں کے متعلق موقف بھی ہر پلیٹ فارم پر کتنا واضح اور حق کے مطابق تھا اور ہے اس سے کوئ ایسا آدمی ہی ناواقف ہوسکتا ہے جو جان بوجھ کر جاھل رھنا چاہتا ہے. یہ لوگ سخت حکومتی دباؤ کے باوجود ان مسائل پر نا کسی مصلحت کا شکار ھوۓ ہیں، نہ ان کے انڈر چلنے والے مدارس سے بچے نکل کر ملک کے اندر ‘جہاد’ کرنے والے جہادی گروپوں میں شامل ہوۓ ہیں اور نہ ان کے اپنے مسلک کے لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں. مفتی تقی عثمانی صاحب کو ھر دیوبندی تنظیم ناصرف پسند کرتی ھے بلکہ انکی اس دور میں موجودگی کو اللہ کا انعام تصور کرتی ہے، آپ بلادلیل محض جذباتی تقریں کررھے ہیں، لشکر جھنگوی اور جنوبی پنجاب کے متعلق بھی آپ کی بات رحمان ملک کی اس متعلق دو سال پرانی کی گئ کسی سیاسی تقریر کا اقتباس لگتی ہے، بھئ جذباتی باتوں، تقریروں سے کچھ نہیں ھوتا. آپ کو اگر کوتاھی دوسرے مکتبہ فکر کے علما میں نظر آرہی ہے اس سے اپنی جماعت کے مفکرین کو تو بچا سکتے ہیں، آپ عاکف صاحب سے کہہ سکتے ہیں کہ اس موضوع پر میڈیا پر جا کر کوئ بیان دیں، مباحثے کروائیں، آپ خود اپنے بلاگ پر ان مسائل پر عقلی دلائل دے سکتے ہیں. ہم میں سے بہت سے لوگ اس وقت نچلے درجے کے ایک عالم سے ذیادہ حق کی اشاعت کے طریقوں سے واقف ہیں اور ان سے ذیادہ لوگوں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں، پھر بھی ھم لوگ پینٹ کوٹ، ٹائی لگا کر اپنے دھندے پر چلے جانے اور بیڈ روموں میں بیٹھ کر علما پر تنقید کرنے سے ذیادہ کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے.

  9. بنیاد پرست صاحب : حضور آنجناب کو کیسے لگا کہ میں نے مفتی تقی عثمانی صاحب کو درباری عالم کہا، مجھے لگتا ہے کہ آپ نے تحریرپڑھے بغیر ہی ایک جذباتی رائے دے دی ہے۔ محترم مفتی صاحب سے میرا تعلق گہرا عقیدت اور محبت کا ہے، میرے والد نے انیس سو اسی میں جدید طریقوں پر روایتی مذہبی تعلم کے لئے ایک تعلیمی سوسائٹی “ فلورئشنگ ایجوکیشن سوسائٹی بنائی تھی جسکے صدر خود مفتی تقی عثمانی صاحب تھے۔ چنانچہ میں بچپن سے مفتی صاحب کو دیکھ، سن اور بڑھ رہا ہوں اور انسے یہ تعلق برقرار ہے۔

    لشکر جھنگوی ایک حقیقت ہے اور لشکر جھنگوی اور اس طرح کی چھوٹی بڑی علماء لیس جماعتوں کے تکفیری نوجوان ہمارے ان علماء سے سخت نالاں رہتے ہیں یہاں تک کہ انہیں درباری علماء کہتے ہوئے بھی نہیں تھکتے۔ آپکو اس حقیقت کا اندازہ اس لئے نہیں ہے کہ شاید آپ اب فیلڈ میں نہیں ہیں اور آپ کو دور دراز علاقوں کے مدارس سے تعلیم ادھوری چھوڑ کر جنوبی وزیرستان جانے والے نوجوانوں کے خیالات اور نظریات کا بھی ابھی مشاہدہ نہیں ہے۔ قبائلی علاقوں میں کیا ہو رہا، وہاں کتنے گروپ سرگرم ہیں، کون کیا کیا کررہے ہیں ان تمام باتوں سے جان چڑھانے کا آپ کے پاس شاید واحد زریعہ یہ ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ غیرملکی یا ہندوستانی و امریکی ایجنٹ ہیں لیکن کیاکبوتر کی طرح انکھیں بند کرلینے سے حقیقت ٹل جائے گی یا سچ بدل جائے گا؟

    میں نے کب کہا ہے کہ علماء ٹی وی پر آکر تکفیری گروہوں سے متعلق شرعی رائے کا اظہار کریں لیکن انہیں اپنے خطابات اور تحاریر میں ضرورذیر بحث لائیں اور جہاں تک ممکن ہو انکی سرزشت فرمائیں ۔

    “بحث مکمل ہوچکی“ جیسی اصطلاحات کم از کم ایک پڑھے لکھے شخص سے سننا عجیب لگتا ہے۔

  10. بنیاد پرست says:

    میرا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کے سارے علما پرفیکٹ کام کر رہے ہیں، پاکستان کے دوسرے طبقات کی طرح یہاں بھی کمزوری موجود ہے، کچھ مسئلہ اھل حق کے کچھ علما کی بے پرواھی کیوجہ سے ھے اور ذیادہ انتشار اور گمراھی باطل اور فرقہ پرست جماعتوں اور انکے لوگوں کی وجہ سے ھیں، انہیں آپ بھی جانتے ہیں. یہ میری پرسنل سرچ ہے کہ ذیادہ تر جہالت اور ظلم کے واقعاب کے پیچھے جن لوگوں کا ہاتھ ھوتا ھے ان کا تعلق یا تو ان دین کے نام پر لوگوں کو لوٹنے اور گمراھ کرنے والی جماعتوں کے ساتھ ھوتا ھے یا ان کو اھل حق کے علما میسر ھی نہیں ھوتے.

  11. بنیاد پرست says:

    جناب ‘دور دراز علاقوں’ کا ذکر تو آپ اب کر رہے . پہلے آپ کی تحریر سے یہی تاثر مل رہا تھا کہ ایسے مدارس کا بھی یہی حال ہے جو وفاق کے ان علما کی پہنچ میں ہیں. حیرت کی بات ہے کہ آپ لشکر جھنگوی کو ایک فتنہ جماعت سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی اس کے لیڈران کے بجاۓ اس جماعت کے کچھ جذباتی جوانوں کی تقی صاحب کے متعلق باتوں کو آپ نے اتنی اھمیت دی کہ اپنے آرٹیکل میں تقی صاحب پر اک الزام کے طور پر پیش کردیا. باقی میں نے نا یہ دعوی کیا ہے کہ وزیرستان میں صرف غیر ملکی تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور نہ یہ کہا ہے کہ ان مسائل پر بحث ختم ھوچکی یا بات کر نے کی ضرورت ھی نہیں. یہ بات میرے علم میں ہے کہ شمالی علاقوں میں وھاں کے لوگوں کے جذبات کو کیش کرا کر ملکی اور غیر ملکی انتشار پھیلانے والی جماعتوں کے علاوہ کئ انصاف چاھنے والی جہادی تنظیمیں بھی ہیں جن کا حکومت پر غصہ صرف امریکن نوازی اور ڈرون حملوں کیوجہ سے ہیں. اور وہ شروع سے عوامی مقامات پر خودکش حملوں کو برا سمجھتی ہیں. جو جائز سمجھتی ہیں ان کا ھمارے علما کیساتھ تعلق ہے اور نہ وہ ان کی بات سنتی ہیں. ان پر بات کرنے کا فاعدہ نہیں.

  12. میرے دل کی آواز اور الفاظ آپ کے۔ بہت خوب تحریر

  13. مسلمانوں کو اس امر کا احساس کرناچاہئے کہ آج ان کے پیغمبر کی توہین اس لئے ہورہی ہے کہ وہ دنیا میں کمزورو ناتواں ہیں اور بین الاقوامی سطح پران کاکوئی وزن اور ان کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں ہے۔ اگر آج وہ تنکے کی طرح ہلکے نہ ہوتے تو کس کی مجال
    تھی کہ ان کے پیغمبرﷺ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھتا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنا احتساب کریں ، اپنی کمزوریاں دور کریں اور اسبابِ ضعف کا خاتمہ کریں ۔ اپنے دین سے محکم وابستگی اختیار کریں اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں احکامِ شریعت پر عمل کریں کہ یہی ان کے لئے منبع قوت ہے اور گہرے ایمان اور برتراخلاق کے ساتھ ساتھ علم و تحقیق اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی متحد ہو کر آگے بڑھیں اور طاقتور بنیں تاکہ دنیاان کی بھی قدر کرے اور ان رہنمائوں کی بھی جنہیں وہ مقدس سمجھتے اور محترم گردانتے ہیں ۔

    ہو اگر عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی
    نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق
    (اقبال)

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>