صفحہ اوّل » تاریخ، سیاست اور پاکستان, کاشف نامہ

وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ ۔۔۔

مصنف: وقت: جمعہ، 3 ستمبر 20104 تبصرے

بہت کم ہیں جو ادراک رکھتے ہیں اور وہ تو نہ ہونے کہ برابر جو شجر سے پیوستہ اور منتظر صبح بہاراں ہوں مگر اکثر حال سے بے حال اور کیوں نہ ہو کہ ننگ پا، راہ میں کانٹے ہی کانٹے اور منزل کی کوئی خبر نہیں۔ کوئی کس پر بھروسہ کرے کہ ہر چہرا مسخ، ہر زبان بے عمل اور ہر شخص داغدار۔ یہ بے بسی اور یہ کسم پرسی کہ بات بنتی بھی نہیں اور بات بگڑتی بھی نہیں، موت آتی بھی نہیں اور جیا جاتا بھی نہیں۔ مصیبت اور افقاد ایسی کہ سب اہل دانش کھسیائے ہوئے، کوئی علاج نہیں، کوئی نسخہ کیمیاء نہیں، کوئی درد کا درماں نہیں کوئی زخموں کا مرہم نہیں اور کوئی دکھوں کا مداوا نہیں۔ البتہ ایک بات تہہ ہے کہ زرداروں اور نوازوں سے بیزاری عام ہے اور اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ ستر فیصد قوم کسی نئے “محب وطن” کی منتظر ہے یعنی وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ۔

ذرائع ابلاغ کی بھی کوئی سمت نہیں کسی ریورڑ کی طرح بس چلتی جارہی ہے، ایک خبر دوسری خبر کو نگلتی ہوئی، ایک افقاد دوسری افقاد کو کھاتی ہوئی اور ایک تنازعہ دوسرے تنازعے کو چھپاتا ہوا۔ ایسے بڑے بڑے ہاتھی جنکی بڑی بڑی باتیں لیکن اگر پکی پکائی بریانی مل جائے تو دستر خان بچھتا ہے اور خوب واہ واہ ہوتی ہے۔ سیلاب سے کڑوڑوں لوگ روٹی کپڑا اور مکان سے محروم، دہشت گردی اور اسکے خلاف نام نہاد جنگ سے کتنے گھر معدوم لیکن انکی گتھیاں ذرائع ابلاغ پر تدغن، الطاف حسین کے بیانات، کرکٹ ٹیم کے کرتوتوں اور اٹھارویں ترمیم میں پھنسی ہیں۔صاحب جمہوریت اور آمریت کے چونچلے آپ کو مبارک ہوں لوگوں کو روٹی کپڑا، مکان اور سکون چاہیے۔ کون دیگا زراداری یا نواز یا انکے بال بچے، کیا اٹھارویں ترمیم دے گی؟ کیا آزاد عدلیہ دے گی؟ کیا آزاد ذرائع ابلاغ دے گا؟۔ ہاں قوم کو بتائیے کہ محب وطن جرنیل بھی کچھ نہیں دیں گے اور پچھلے تیس برس کا حساب بھی ابھی باقی ہے اس لئے کسی کو بلانے کے بجائے ان سر پھروں پر چڑھ دوڈوں اور اپنا حق انسے چھین لو اور جنہوں نے بند کاٹ کر تمہارے زمینیں اور جگیاں ڈبوئی ہیں انکی زمنیوں اور اراضیوں پر جا دھمکو کہ وہ بھی تمہاری ہیں۔ لیکن انکے محلات اول تو لوٹنے کہ نہیں اور اگر لوٹے گئے تو پھر آپکے بنگلے کب بچیں گے!۔

میں بہت سے زیادہ رجعائیت پسند ہوں لیکن مجھے کہیں سے بھی انقلاب فرانس کی طرز کا کوئی انقلاب آتا نظر نہیں آتا کہ قوم یکسو نہیں، ہم آواز نہیں۔ آدھے کاری کمین اور مزراعے ہیں جو سائیں جی کی وفاداری کے بدلے صرف دو وقت کی روٹیاں مانگتے ہیں اور آدھے متعصب اور تفرقات میں الجھے ہوئے۔ جو ادراک رکھتے ہیں وہ بزدل، حبِ جاں میں دھنسے ہوئے، اپنی میں میں گم، اپنی ذات کی دنیا میں محو اور اپنے مفاد کے لئے برسریپکار کہ سڑک پر آتے ہوئے ڈرتے ہیں اور جو بروئے کار آنے پر راضی بارضا ہیں وہ کسی سے متفق نہیں اور اپنی ہی دیڑھ انچ کی مسجد بنانا چاہتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ کوئی آثار انقلاب نہیں بس خود فہمی ہی خود فہمی ہے۔

مان لیا کہ اگر یہ بٹے ہوئے اور بھپرے ہوےلوگ سڑکوں پرآ بھی گئے تو تاج ضرور اچھالے جائیں گے مگر نہ نام رہے گا اللہ کا اور نہ خلقِ خدا راج کرے گی یعنی جو بیٹھیں ہیں انکی ٹانگیں کھینچنے سے بھی حاصل کچھ نہیں اور جو نورا کشتی ہوگی وہ الگ اور انہیں بے لگام چھوڑنا بھی بھپرے سمندر میں چھلانگ لگانے کے برابر ہے پھر خدارا کریں تو کریں کیا۔ جمہوریت کا سبق پڑھیں یا جمہوری تحفوں سے طبیعت کے رنگ دوبالا کیا کریں۔

اہل سیاست کے ڈھنگ کسے نہیں معلوم، بیوروکریسی کی نوکر شاہی سے کون ناواقف ہے اور کرپشن کا کینسر، خود غرضی، اقربہ پروری، تعصب، عصبیت، جھوٹ، بغض، منافقت، عدم برداشت کہ ہر جگہ چوری اور اس پہ سینہ زوری، یہ کاٹ اور وہ کاٹ۔ پھر سود میں لد پت کاروبار اور علم کی نخلستان سے دور کہیں جہالت کی کال کوٹھریوں میں پڑی ہوئی قوم۔ کون سا گناہ ہے جو اس عہد کا مسلمان اور اس پاک سر زمین کا شہباز نہیں کررہا۔ یعنی اگر لفظ مسلمان ہم سے الگ کردیا جائے تو فل حقیقت دنیا بھر کی کافر اقوام ہر معاملے میں ہم سے لاکھ گناہ بہتر ہیں اور ہم کیا! دنیا میں بھی ذلیل اور آخرت کا بھی کچھ پتہ نہیں۔ وہ عقیدے کے کافر اور ہم اعمال کے۔ ہر جگہ پٹتے ہوئے ہر رہگزر پر بھیک مانگتے ہوئے اپنے ملکوں میں بھی چین نہیں اور دیار غیر میں بھی پریشان۔

کافی مدت سے انقلاب کی باز گشت ہے لیکن تبدیلی کی ہئیت اور شکل متعین سامنے نہیں اور نہ کوئی موثر عملی کوشش کہیں ہے۔ بس کوئی اسلامی انقلاب کی راہ دیکھ رہا ہے اور کوئی عوامی انقلاب کے خواب و سیراب میں گم ہے۔ کوئی اپنے مخالفین کو خونی انقلاب سے ڈراتا ہے اور کوئی فوجی انقلاب کی نوید دیتا ہے اور کوئی دھیمے آنچ پر پرورشِ انقلاب میں مصروف ہے۔ لیکن کون جانے کہ اصل انقلاب تو “قرآن” ہے جو رسول امین صلی اللہ و علیہ وسلم ہمیں دے کر گئے۔

نہ امیدی مگر کفر ہے اور رجعائیت پسندی میری طبیعت کا لازمی جز پھر پاکستان کی نظریاتی بنیاد، تیزی سے بدلتے عالمی منظرنامے اور ہر دم قریب آتی خلافت منہج النبوت میری فکر کو جواں اور میرے عظم کو تازہ رکھنے کا سامان مہیا کرتے ہیں۔لیکن خلافت منہج النبوت کا مطلب ہے پہلے انقلاب منہج النبوی۔ سرکار دو عالم صلی علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس امت کے آخری حصے کی اصلاح نہیں ہوگی مگر ٹھیک اس ہی ترکیب پر جس پر اسکی پہلے حصہ کی ہوئی۔ تو کیا کسی تو کیا کسی کو شک ہے کہ آخری دور نہیں آگیا یا بس آنے کو نہیں ہے یعنی اب امت پر منہج انقلاب نبوی کی پوری فلاسفی اور پوری مکی و مدنی تحریک کے ایک ایک جز کو سمجھنا اور بروئے کار لانا لازم ہوا۔ پاکستان ہمیں جان سے زیادہ عزیز لیکن اللہ نے ہم سے کوئی عہد تو نہیں کہ اسے قیامت تک قائم رکھے گا سو جو قوم محروم رہے گی خدا کا اسکے لئے وعدہ ہے کہ اسے ختم کرکے دوسری قوم کو آگے لے آئے گا۔ پھر ہمارا تو اپنے پروردگار کے ساتھ ایک عہد بھی ہے۔گویا منزل معلوم، سمت متعین اور جہت سامنے لیکن نہ کوئی بانگ درا، نہ کوئی کارواں اور نہ کوئی امیر کارواں۔ تو عرض یہ ہے کہ قرآن لے کر اٹھو، اٹھو اور اگر نہ اٹھے تو تمہاری جگہ کسی اور کو اٹھایا جائے گا۔

حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ مالٹا سے وطن لوٹے تو امت مرحومہ کے مرضِ زوال کی تشخیص نو کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ قرآن سے دوری اور باہمی انتشار ہی اسکے اسباب ہیں۔ مفتی شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے اور وضاحت کی کہا باہمی انتشار بھی دراصل قرآن سے دوری کا سبب ہیں۔ سو تہہ ہوا کہ قرآن “سراپہ انقلاب” ہے یہ دلوں کو بھی پلٹاتا ہے، ذہنوں کو بھی بدلتا ہے اور معاشرے کے اجسام میں بھی تبدیلی رونما کرتا ہے۔ یہ وہ نور ہے جو ہر شب تاریک اور ہر صبح موہوم کو فنا کردیتا ہے. یہ وہ جزبہ ہے جو خون کے پیاسوں کو باہم شیر و شکر کر دیتا ہے یہ وہ نسخہ ہے جو ہر روحانی مرض کا سو فیصد کامیاب علاج کرتا ہے۔ یہ کھولا جاتا ہے تو سینوں کو گرمادیتا ہے۔ یہ پڑھا جاتا ہے تو روح کو تڑپا دیتا ہے، یہ سنایا جاتا ہے تو ادب سیکھاتا ہے، یہ سمجھا جاتا ہے تو دماغ کی گرہوں کو کھول دیتا ہے، فکر کو منور کرتا، عظم کو پختہ کرتا اور ایمان کو راسخ کرتا ہے۔ مگر افسوس

وائے ناکامی کہ متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

بہرحال حالات جو بھی ہوں لیکن میں ان لوگوں سے متفق ہوں جو کہتے ہیں شارٹ کٹ سو سائڈ ہے اسلئے اس جیسے تیسے نظام کو چلنے دیں جبکہ دوسری طرف اہل دین اپنی تمام تر توانائی قرآن کی دعوت کو پھیلانے اور اسکے نتیجے میں قلبی انقلاب پرپا کرنے میں کھپا دیں، اگلے مرحلے میں سمع و بصر کی بنیاد پر “ایک” جماعت مستحکم، پھر صبر محض اور بلاآخر اقدام و انقلاب ۔ یہ ہے منہج النبوۃ کا خلاصہ اور یہی ہے وقت کا تقاضہ۔ 1920 میں امام الہند ابولکلام آزاد رحمہ اللہ نے اپنی حزب اللہ بھی اسی ڈھنگ پر قائم لیکن وہ اس منہج کو برقرار نہ رکھ سکے۔

سب باتیں درست لیکن موجودہ حالات میں کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیوں نہ ہم سیلاب زدگان کو یونہی اپنے حال پر چھوڑ دیں، انکے سامنے روٹی کے ٹکرے نہ ڈالیں اور انکی پیٹ کی آگ کو نہ بجھائیں کہ بھوک سے اکتا کر یہ ایک دن اٹھیں اور اپنے آقاوں کی ہڈیاں تک چبا لیں۔ ہاں انقلاب بھرے پیٹ کا کھیل نہیں ہے، تبدیلی سینے پر پتھر باندھنے والے ہی لاتے ہیں مگر اگر یکسو ہوں، “ایمان”، “اتحاد” اور “یقین محکم” کے زیور سے آراستہ ہوں لیکن یہ بے بسی اور یہ کسم پرسی کہ بات بنتی بھی نہیں اور بات بگڑتی بھی نہیں، موت آتی بھی نہیں اور جیا جاتا بھی نہیں۔ مصیبت اور افقاد ایسی کہ سب اہل دانش کھسیائے ہوئے، کوئی علاج نہیں، کوئی نسخہ کیمیاء نہیں، کوئی درد کا درماں نہیں کوئی زخموں کا مرہم نہیں اور کوئی دکھوں کا مداوا نہیں۔ البتہ ایک بات تہہ ہے کہ زرداروں اور نوازوں سے بیزاری عام ہے اور اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ ستر فیصد قوم کسی نئے “محب وطن” کی منتظر ہے یعنی وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ۔

فیس بک تبصرے

4 تبصرے برائے: وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ ۔۔۔

  1. اندر والوں کا تو نہیں معلوم
    ہم باہر والوں کا حال کچھ اس طرح ھے۔
    دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا

  2. ہاں صحیح کہا یار۔۔۔
    یہ انقلاب بھرے پیٹ کا کھیل نہیں۔
    واقعی وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ۔۔۔

  3. ہاں یار اب کسی انقلاب واب کے دور دور کوئی آثار نظر نہیں آرہے اور نہ ہی کسی نئی حکمران سے کوئی اُمید رہی ہے. میں تو اکثر یہی کہتا ہوں کہ اب ہماری مشکلات کا واحد حل ہماری سچی توبہ ہے لیکن بھیا کیا کریں اب تو لوگ اس بات پر بھی راضی نہیں.
    اللھم اغفر ورحم وانت خیرالراحمین

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>