صفحہ اوّل » دینیات کی کتاب سے, کاشف نامہ

قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

مصنف: وقت: اتوار، 30 جنوری 201116 تبصرے

حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمہ اللہ کے مقبرے کی عقبی دیوار پر بیٹھا میں سمندر میں ڈوبتے سورج کو دیکھ رہا تھا، میری نظروں کے سامنے سمندر کی وسعت تھی اور سورج کسی ننھے پروانے کی مانند اسکی گہرائی میں ڈوبتا اور اسکی وسعت میں غائب ہوتا محسوس ہورہا تھا۔ سمندر اور سورج؟ محبت اور نفرت؟ حرمت اور بے حرمتی، جرم اور سزا؟ میرے منتشر خیالات کسی ایسی لہروں کی مانند سیماب تھے جنہیں اپنے ساحل کی تلاش ہو۔ اسی ذہنی کشمکش کے دوران مقبرے کی پشت پر واقع مسجد کی مینار سے تکبیر کی سدائیں سنائی دینے لگیں، سمندر کا وہ شور جسکی آواز سے کچھ دیر قبل تک میرے کان پھٹ رہے تھے ایک خوش الہان موزن کی دلپزیر آواز میں گم ہوچکا تھا اور فضاء میں اللہ اکبر اور محمد رسول اللہ کی سدائیں بھکری ہوئی تھی۔  میں اچانک تخیل کی پرواز پر اڑتے چودہ صدیوں کی مسافت پار کرتا مکہ اور مدینہ کی مقدس سرزمین پر جااترا، جہاں ہر طرف حضور تھے۔ اللہ اللہ ادب، تقدس اور احترام کا یہ عالم کہ نگاہیں جھکی ہوئی، آواز مدہم اور دل بچھے ہوئے۔ کوئی ذرا اپنی آواز بھی انکی آواز کے برابر لے آئے تو گویا دنیا ہی اجڑ گئی۔ آذان ختم ہوئی اور میرے تصور کی برات بھی۔

اب ایک بار پھر مسجد کی طرف اٹھتے ہوئے میرے ہر قدم کے ساتھ میرے اندر بے ربط اور متشر سوالات کا سیل رواں چل رہا تھا۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ کچھ دیر پہلے وہ سورج جسکی روشنی سے دنیا جل رہی تھی اب کہاں ہے، اور وہ دلپزیر شام اب کدھر گئی جسکے حسن سے میری انکھیں خیرا تھیں اور اور، لیکن سوچنے سمجھنے اور ادراک کے دریا میں غوطہ لگانے کا وقت کس کے پاس ہے، ایک طرف مذہب پسندوں نے ثواب فیکٹری لگا رکھی ہے اور دوسری طرف روشن خیال ہیں جو دلیل، منطق اور اصول کو پس پشت رکھ کر لعن طعن کے لئے نکل آئے ہیں

حقیقت یہ ہے کہ دونوں اطراف ہی کچھ لوگ حد سے بڑھے ہوئے ہیں جو شعوری اور لاشعوری طور پر احتیاط اور اعتدال کی سرحد سے تجاوز کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی کوشش میں زیادتی کربیٹھتے ہیں۔ ایک طرف اگر کچھ کم ظرف مذہب اور مقدس ہستیوں کو گالیاں دینے کا قانونی جواز مانگ رہے ہیں تو دوسری طرف بھی ایسے جنونیوں کی کمی نہیں جو سلمان تاثیر کو گستاخ، کافر  اور واجب القتل قرار دینے کے لئے کسی دلیل کو ضروری نہیں سمجھتے۔ توہین رسالت کو آزادی اظہار رائے سے منسلک سمجھنے والا طبقہ یہ نقطہ اٹھاتا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ  قانون توہین رسالت ہی کیا اس ملک میں کونسا قانون ہے جسکا غلط استعمال نہیں ہوتا۔ پھر کیا ملک کا ہر قانون اس واسطے کالا قانون کہلائے گا؟ جبکہ ہر معاملے پر گستاخی کا فتوا جاری کرنے والا طبقہ بہت سی حقیقتوں کو نظرانداز کردیتا ہے۔ کیا خواتین کے جھگڑے میں بات کا مذہب تک پہنچ جانا اور پھر سوئے ادب کا ہوجانا کیا راج پال، سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کے جرم کے برابر ہوسکتا ہے؟ بعض اوقات علمائے کرام زور بیان میں ایسے الفاظ استعمال کرجاتے ہیں جو کہ انہیں استعمال نہیں کرنا چاہئے تو کیا انکے زبان کے پھسلنے کو بھی توہین رسالت قرار دیا جائے گا؟

سوال اگر سزا کی سختی کا اٹھایا جائے تو منطقی جواب تو یہی بنتا ہے کہ ایک سچے پکے عاشق کے لئے اسکے محبوب کو گالیاں وینے والے شخص کا کیا مقام ہوسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرنا کوئی آسان جرم نہیں ہے، بڑے سے بڑا کافر بھی اس جرم سے دور بھاگتا ہے البتہ ایسے جن کے دلوں پر مہر لگ جائیں۔ یاد کریں جب ابو لہاب نے دو فقرے کسے تو رب کریم کی غیرت نے جلال کھائی اور ارشاد ہوا ’’توٹ گئے ابو لہاب کے ہاتھ اور وہ برباد ہوا‘‘، ایک اور کم ضرف کی زبان دراز ہوئی تو عالمی مرتبت کی طرف سے فرمان جاری ہوا کہ ’’جو میرے حبیب کے ساتھ استہزا کرے گا میں اس سے بدلہ لوں گا‘‘، جب عمر فاروق کے بے لگام جذبات نے ایک مسلمان (منافق) کی جان لی تو فورا جبرئیل کو اس پیغام کے ساتھ روانہ کیا کہ ’’جب میرا اور میرے رسول کا حکم آجائے تو حق نہیں کسی مسلمان کو کہ بات اپنی رکھے‘‘، ایک اور صحابی نے اس جرم کی پاداش میں اپنی لونڈی کو موت کی گھات اتارا تو رسول اللہ نے اپنی مجلس میں انہیں قصاص اور دیت سے بری الزماں قرار دیا۔ ہاں یقینا معاف کرنا بدلہ لینے سے افضل ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم افضلیت میں سب سے آگے اور بڑھے ہوئے ہیں۔ لیکن معاف کرنا حسن اخلاق ہے، قانون اور انصاف ہے، یہ معافی تو مظلوم کے اختیار سے ماخوز ہے سو وہ چاہے تو کرے سو وہ چاہے تو نہ کرے۔ بنیادی اصول رحمت العالمین نے وضع کردیا ہے اور وہ یہ کہ جرم اگر بنت رسول سے بھی ہو تو معافی نہیں سزا ہے اور دنیا کے ہر قانون نے اس وضع کو اپنایا ہے۔ پھر اس گناہ بے لذت سے صرف نہ صرف جرم و فساد کے موج و بحر میں تغیانی آتی ہے بلکہ جزبات کی حرمت بھی ایسی روندتی ہے کہ فوری رد عمل آتا ہے اور موقع پر حساب پر لے لیا جاتا ہے۔ لیکن ہاں علمائے کرام کو احتیاط سے کام لینا چاہئے، بہت ذیادہ احتیاط سے کہ بے قصور جزبات کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں، خاص طور علمائے احناف کو کیونکہ فقہ حنفی کی کتاب ہدایہ میں توہین رسالت پر سب زیادہ معتدل رویہ اختیار کیا گیا ہے۔

بحث نکلی ہے تو ان “علما” کا زکر کیوں نہ کیا جائے جنہوں نے سلمان تاثیر پر توہین رسالت کا حکم لگایا، کفر کے فتوے جاری کئے اور قتل کے پروانے لکھے۔ ان علماء میں مفتی حنیف قریشی پیش پیش تھے، کیا وہ کبھی اپنے اپنے فتووں کو شرعی اصولوں، دلائل کے معیار، منطق یا فقہی استدلال سے کبھی درست ثابت کرسکیں گے، ہرگز نہیں کرسکیں گے۔ ان روشن خیالوں کا ذکر کیوں نہ کیا جائے جو صرف ممتاز قادری پر پر برستے ہیں کہ اسنے قانون ہاتھ میں لیا، کیا گورنر صاحب نے عدالت، قانون اور انصاف کے تقاضوں کو بلائے طاق رکھتے ہوئے مجرمہ کو ماورائے عدالت رہا کرانے کا فامولا پیش کرکے اور خود کو ایک مجرمہ کا صرف اس لئے سرپرست قرار دیکر قانون ہاتھ میں نہ لیا تھا۔ دونوں اطراف کی انتہاوں کو میرا پیغام ہے جناب ممتاز قادری کسی شخص کا نہیں اس امت کے صدیوں کے اجتماعی تامل اور مزاج کا نام ہے اور مجھے کوئی خس و پیش نہیں کہ میں اس مرد صدق و عشق و وفا جس کا کے ساتھ کھڑا ہوں، ہاں اگر سزا دینی ہے تو ان بھٹکے ہوئے مولویوں کو دو جنہوں نے فتوے دئے اور سیدھے سادھے مسلمانوں کے جذبہ عشق و وفا کو اشتعال دلایا اور ان روشن خیالوں کو دو جنہوں نے قانون توہین رسالت کو ختم کرواکر عوامی اشتعال کو سڑکوں، بازاروں اور گلی محلوں میں لانا چاہتے ہیں، جیسا کہ خود رحمان ملک بھی ارشاد فرماچکے ہیں کہ گستاخ کو وہ اپنے ہاتھوں سے قتل کریں گے۔

فیس بک تبصرے

16 تبصرے برائے: قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

  1. السلام علیکم، پہلے تو آپ کو مبارکباد کہ آپ کو اللہ نے اپنے جذبات اور سوچ کو خوبصورت الفاظ کا روپ دینے کی صلاحیت عطا فرمائی۔۔۔

    میں آپکی اس تحریر سے بہت حد تک متفق ہوں۔۔۔ کچھ دن پہلے بھی کسی بلاگ پر بڑی مشکل اردو میں کنفیوزڈ نسل کا ذکر پڑھا تھا۔۔۔ کچھ زیادہ پلے نہیں پڑا۔۔۔ لیکن جو بات سمجھ آئی کہ حضرت احکام اللہ، احادیث رسول ، فرمودات صحابہ اور پھر اجتہاد کا ذکر کر رہے تھے۔۔۔ یہ ذکر میں اس تبصرے میں کر رہا ہوں کہ آپ نے بھی مذہبی اور ملکی قوانین کے بارے میں اپنی رائے دی ہے۔۔۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے الگے چار سو سال تک جب، صحابہ ، تابعین اور پھر تبع تابعین نے قرآن اور احادیث کو سمجھنے اور سمجھانے میں بہت کام کیا۔۔۔ بہت سے مسئلے ایسے بھی آئے جہاں ان کو قرآن اور احادیث سے کوئی رہنمائ نا مل سکی۔۔۔ انہوں نے اجتہاد کیا اور پھر مشترکہ فیصلوں سے انہیں قوانین کا رتبہ دیا گیا۔۔۔ اب میں دماغ پر بہت زیادہ زور دوں بھی تو سمجھ نہیں آتا کہ کیا آج کل ہمیں اجتہاد کی ضرورت ہے؟ کیا ہمیں زندگی گزارنے کے قوانین سمجھا نہیں دیے گئے۔۔۔ کیا ہمیں اس بارے میں اجتہاد کی ضرورت ہے کہ چاچے کا بیٹا محرم ہے یا نہیں ؟ یا کیا ہمیں زکوۃ کے بارے میں اجتہاد کی ضرورت ہے؟ ہم کنفیوزڈ ہو چکے ہیں کیونکہ ہم اب تک اپنے مذہب کے بارے میں کچھ زیادہ تو جانتے نہیں لیکن اپنی آسانی کے لیے اجتہاد کرنے پر زور ڈال رہے ہیں۔۔۔

    اپنی زندگی کی انتیس سالوں میں سے صرف چھ ماہ میں نے اسلام کے بارے میں جو پڑھا اور جو سیکھا ۔۔۔ اس کے بعد میں حتمی طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کا حل اسلام میں ، قرآن یا حدیث میں نہیں مل سکتا۔۔۔ بس فرقہ واریت میں نا پڑو اور صدق دل سے سیکھنے کی کوشش کرو تو نا صرف اللہ کاقرب بھی حاصل ہو جاتا ہے اور ہم نے اپنی زندگیوں اور مذہب میں جو پیچیدگیاں پیدا کر لی ہیں وہ بھی ختم ہو جایئں گی۔۔۔

    اللہ ہمیں ایک امت ہونے کے ناتے اجتماعی ہدایت عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

  2. اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلٰی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ کی گئی زیادتیوں کو معاف فرما دیا۔ وہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ العالمین ہیں لیکن نبی صلیٰ اللہ علی وسلم کی رسالت من جانب اللہ ہے جو تاقیامت آخری دفعہ کل عالم انسانیت کے لئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی کی طرف سے عطا ہوئی ۔ اور اللہ تعالٰی کے لئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگیں لڑیں۔ مصیبتیں سہیں۔اللہ تعالٰی اور اسکے دین کو نہ مانے والوں سے جہاد کیا۔ نبی کریم صلٰی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نبی کے شاتم محض نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے اعلان رسالت کی وجہ سے گستاخی کرتے تھے ورنہ تو انھیں نبی کریم صلی اللہ کی ذات سے تو کوئی اعتراج نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جس جس نے رسالت سے ٹھٹھا کیا توگویا اس نے اللہ سے ٹھٹھا کیا اور یہ ممکن نہیں تھا اور غیرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ گوارہ نہیں تھا کہ رسالت یا دوسرے لفظوں میں اللہ سے ٹھٹھا کرنے والوں کو سزا نہ ملے۔ اسلئیے شاتموں کو قتل کیا گیا ۔ تانکہ قتل کے ساتھ ہی وہ آوزیں اور فتنہ ختم ہوجائے جو فساد خلق خدا کی جڑ بنتا۔

    اسلئیے حرمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم پہ شاتم کی سزا موت ہے اس پہ کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں ورنہ آگے چل کر اس سے امت مسلمان میں ناحق فساد و قتال ہوتا ۔ لہٰذاہ اور جو اس پہ ایں ، آں، است کرے ۔ سمجھ لیں یا تو وہ بدقسمتی سے دین سے بے بہرہ ہے اور مخصوص لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے یا اسکی نیت میں فتور اور دل میں فساد ہے۔

  3. بہت خوب .الله تعالیٰ آپکو فراغت نصیب فرمائے تاکہ آپ خوب لکھہ سکیں ..جزاک الله ….ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلم توہین رسالت کے مرتکب سے ہمدردی رکھنے والوں سے کھل کر اپنی بیزاری کا اظہار کرے تاکہ توہین رسالت کے وبال ہم پر نا ہو. شاید توہین رسالت دنیا میں واحد جرم ہے جس پر ہمیشہ معافی کا مطالبہ آتا ہے باوجود اسکی فتنہ انگیزی ،جذباتی ضرر رسانی اور ہلاکت خیزی کے….
    کھل کر اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار ضروری ہے.

  4. بلیک شِیپ says:

    سیکیورٹی گارڈ قادری اور سلمان تاثیر دونوں نے ‘اپنی اپنی‘ جنت کھری کرلی۔ ایک تو سیاسی شہید ہوگیا تو دوسرا غازی ہے۔ جنت تو جنت ہی ہے چاہے شہادت سے ملے یا غازی ہوکے۔
    ہمارے ملک کو واقعی ‘روشنی‘ کی طرف جانا ہے تو یہ سارا ‘چراغاں‘ اسی مد میں ہے۔ ابھی شاید کچھ دنوں پہلے ایک دوست نے ایک جگہ لکھا تھا کہ بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں میلہ چراغاں پر خون کے دئیے جلیں واقعی سچ لکھا تھا۔ کچھ احباب کو شاید علم نہ ہو کہ خون کے دئیے میں لو زیادہ ہوتی ہے اور روشنی کی طرف سفر تیزی سے ممکن ہے۔
    ڈر تو مجھے اپنے آپ سے لگنے لگا ہے کہ مجھے کب یہ جنت پکی کرنے کا چسکا لگ جائے۔
    مذہب کے شہسوار اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اب بحر ظلمات ہو یا کوئی معصوم عوام کا ریوڑ کوئی ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔

    اس شہرِ سنگ دل کو جلا دینا چاہئے
    پھر اِس کی خاک کو بھی اڑا دینا چاہئے
    ملتی نہیں پناہ مسلم کو جس زمین پر
    اِک حشر اُس زمیں پہ اٹھا دینا چاہئے
    حد سے گزر گئی ہے یہاں رسمِ قاہری
    اِس دہر کو اب اِس کی سزا دینا چاہئے

    اک ضروری وضاحت : ابھی کچھ دنوں پہلے میں نے ایک جگہ لکھا تھا کہ اسلام کے قلعے میں یا تو ‘مسلمان‘ ہوں گے یا پھر کافر کسی تیسرے کی گنجائش نہیں۔ مگر اب آسمانی صحیفات کی نئی تشریح کے تحت اسلام کا قلعہ صرف اور صرف ہم مذہبوں کا ہے۔

    اک اور ضروری وضاحت : اوپر مذکور بکواس میں مذہب کا لفظ استعمال ہوا ہے اسلام کا نہیں۔ چنانچہ سب احباب سے گذارش ہے کہ دونوں کو گڈمڈ نہ کریں۔ شکریہ

  5. بہت اعلی، توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کی باتیں کرنے والوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ان کی یہ مکروہ کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوپائیں گی. شمع رسالت کے پروانے ناموس رسالت پر اپنا سب کچھ قربان کردینے کا عزم رکھتے ہیں. وہ اس شعر کی عملی تصویر ہیں کہ:
    یہ بازی عشق کی بازی ہے، سب زور لگادو ڈر کیسا
    گر جیت گئے تو کیا کہنے، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

    اور تو اب بارہ سنگھوں کے کاپی پیسٹ کو بھی جگہ دینے لگ گیا. اوپر والی جو کالی بھیڑ ہے یہ بی بی سی کا چھاپہ ہے. ان ××××× کا ایک ہی ذریعہ رہ گیا ہے. بی بی سی جسے یہ بیچارے ہر جگہ چھاپتے پھرتے ہیں. 😆

  6. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بھائی کاشف بہت اچھی تحریرلکھی ہےمیری طرف سےآپ کوبہت بہت مبارک قبول ہو۔
    لیکن ایک بات وہ جومیں نےپہلےبھی تحریر کی ہےکہ دراصل اب کفارہم جن میں سب یہودونصاراورسب مشرک آتےہیں ہمارےجسم سےمحبت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نکالنےکےچکرمیں ہیں اس کےلئےبہت خوبصورت نعرےلگائےجاتےہیں۔لفظوں کےہیرپھیرمیں بہت کچھـ کیاجاتاہےلیکن الحمداللہ ہم میں ابھی تک محبت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم باقی ہےجسکی وجہ یہی ہےکہ ایسےشاتم رسول کوجہنم وصل کرنےمیں کوئی بھی پیچھےنہیں ہٹابلکہ اسکےمرنےپرمٹھایاں بانٹی جاتیں ہیں اورحتی کہ امام شاہی مسجدنےبھی اس کاجنازہ پڑھنےانکارکردیااس سےزیادہ اس کی اورکیاجگ ہنسائي ہوگی۔ کیونکہ محمدصلی اللہ علیہ والہ وسلم کاتومعانی ہی بہت زیادہ تعریف کیاہوا۔ اورجسکی تعریف جسکی محبت میں ممتازقادری نےکام کیاوہ تمام مسلمانوں کی آنکھـ کاتارابناگیااورجس نےگستاخی رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وہ سارےمسلمانوں سےسب سےزیادہ گناہگارٹھہرا۔
    اللہ تعالی ہم کودین اسلام کی تعلیمات پرعمل پیراہونےکی توفیق عطاء فرمائیں۔ آمین ثم آمین

  7. بلیک شِیپ says:

    کاشف نصیر صاحب ایک گذارش ہے کہ اپنی تحریر کی دوبارہ کانٹ چھانٹ کریں
    حد تو یہ ہے ایک پیراگراف کے دو جملے ایک دوسرے کی ضِد ہیں
    لِکھتے وقت دِماغ اور اُنگلیوں کے درمیان رابطہ ہر صورت اُستوار رہنا چاہئے
    اگر کوئی خلل آتا ہے تو نتیجہ اوپر آپ دیکھ سکتے ہیں

    وقار اعظم صاحب

    بی بی سی کو کیوں بدنام کر رہے ہیں ؟
    میں کیا کم ہوں بدنام ہونے کیلئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  8. بہت اچھی تحریرلکھی ہےمیری طرف سےآپ کوبہت بہت مبارک قبول ہو۔

  9. بلیک شِیپ says:

    کہیں یہ پرانے شکاری نیا جال لے کر تو نہیں آگئے
    کہیں تحریکِ ناموسِ رسالت ٹریلر تو نہیں کیا پتہ فلم بھی پیچھے پیچھے آرہی ہو، ویسے بھی پنڈی کنٹونمنٹ والے سپرہٹ فلمیں پیش کرنے میں بڑی شہرت اور تجربہ رکھتے ہیں۔

    کوئی تین دہائیاں پہلے بھی ایسی ہی ایک فلم آئی تھی تحریکِ نظام مصطفیٰ۔ بہت سے یار لوگ ٹکٹ لے کر دیکھنے چلے گئے پھر پتا چلا یہ تو نیوز کاسٹر کو دوپٹہ اوڑھانے اور کوڑے مارنے کی کوشش تھی۔ مگر کیا کرتے ٹکٹ جو لے کر پھنس گئے تھے کافی سے زیادہ لمبی فلم تھی پَر پنڈی کیَنٹ والے بضد تھے کہ پوری فلم دیکھی جائے وہ تو شُکر ہے کہ سینما ہال کی بجلی چلی گئی ورنہ قوم کے کانوں میں ابھی شڑاپ شڑاپ کی آوازیں گونج رہی ہوتیں۔

    وہ بھی کیا خُوب دورِ ضیاع تھا۔۔۔۔۔

    اوپر والے پیرا میں ایک بنیادی غلطی ہوگئی ہے کہ صرف پنڈی کنٹونمنٹ نہیں بلکہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پنڈی کنٹونمنٹ اور آبپارہ والوں کی مشترکہ پروڈکشن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کہ آبپارہ والوں کی پسِ پردہ کوشِشوں کے بغیر پنڈی کنٹونمٹ کے لئے ایسی کھڑکی توڑ فلمیں پیش کرنا ممکن نہ ہو۔

  10. “پرانے شکاری نیا جال” .اچھا خیال ہے.اس پر تو ایک مووی بن سکتی ہے . مووی کے مرکزی خیال میں ایک شکاری ہو سکتا ہے .جس نے بہت سارے طوطے پالے ھوۓ ہیں. جو صبح شام اسکا سبق رٹتے رہتے ہیں . وہ ان طوطوں کو شہر کے ہر کونے میں بیچ دیتا ہے . یہ طوطے صرف ایک ہی بات کرنا جانتے ہیں اور دن رات اسی جملے کی گردان کرتے رہتے ہیں کہ ” خبردار چور آرہا ہے ” ان طوطوں کو خریدنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ طوطے تو بہت سمجھدار طوطے ہیں، گھر کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اور خطرے سے آگاہ کرتے ہیں. یہ سوچ کر وہ ان طوطوں کو گھر لے آتے ہیں . جب رات ہوجاتی ہے اور ان طوطوں کے مالکان سو جاتے ہیں تو یہ طوطے چیخ چیخ کر آوازیں لگانے لگ جاتے ہیں ” خبردار چور آرہا ہے ” . ان کی آوازوں سے مالکان جاگ جاتے ہیں اور چوروں کی تلاش شروع کر دیتے ہیں مگر پتا یہ چلتا ہیں کہ کوئی چور نہیں ہے . کھسیانی ہنسی ہنستے ھوۓ مالکان سو جاتے ہیں. دوسرے دن پھر یہی ہوتا ہے ..طوطے پھر چیختے ہیں ” خبردار چور آرہا ہے ” . مالکان پھر جاگ جاتے ہیں اور سرسری سا جائزہ لے کر پچھلی رات کی طرح سو جاتے ہیں . اور پھر یہ انکا معمول بن جاتا ہے اور مالکان طوطوں کی آوازوں پر دھیان دینا بند کر دیتے ہیں. پھر ایک دن ایسا آتا ہے کے وہ شکاری جس نے ان طوطوں کو یہ جملہ رٹایا ہوتا ہے اپنے کچھ ساتھی چوروں کو ان گھروں میں بھیج دیتا ہے جہاں اس نے طوطے فروخت کے ھوۓ ہوتے ہیں. چور دیواریں پھلانگتے ہیں اور کھٹ پٹ ہوتی ہے مگر اس سے پہلے یہ طوطے چللانا شروع کردیتے ہیں کہ ” خبردار چور آرہا ہے ” طوطوں کی اس ٹيں ٹيں میں چوروں کی کودنے کی اور تلاشی لینے کی آوازیں دب جاتی ہیں. اور چور سارا مال لے کر فرار ہوجاتے ہیں. دوسرے دن صبح جب گھر والوں کی آنکھ کھلتی ہے تو واردات کا پتا چلتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ de sensitization کتنی بری چیز ثابت ہو سکتی ہے اور کتنی قیمتی متاع سے آپکو محروم کر سکتی ہے.
    تو خواتین و حضرات یہ سارا کھیل ہی de sensitization کا ہے . اپنے بواسیری منہ سے اتنی بکواس کرو کہ لوگ خطرے کی طرف دھیان ہی دینا بند کر دیں .اور جب بے فکر ہوجائیں تو انھیں انکی قیمتی ترین متاع سے محروم کر دو.

  11. ڈاکٹر جواد، کہانی کا اسکرپٹ خوب لکھا آپ نے. واقعی ہمارے درمیان موجود ان کالی بھیڑوں کی حرکتیں ایسی ہی ہیں. اور یہ بات یہ خود بھی جانتے ہیں تب ہی کالی بھیڑ کا لفظ اپنے لیے استعمال کرتے ہیں. ان کا کام ہی اپنے حقیقی آقائوں سے وفاداری ہے.

  12. وقار بھائی!
    ان لوگوں نے یہ حکمت عملی بنائی ہوئی ہے اور انٹر نیت اور اخبارات میں باقاعدہ بحث کرتے ہیں. توہین رسالت کے معاملے میں انکی سٹریٹیجی یہ ہے کہ اس پورے اشو پر پراگندہ خیالی پھیلائی جائے اور اتنے شکوک پھیلا دیے جائیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کا رد عمل بھی ہلکا ہوتا چلا جائے. اس وقت حال یہ ہے کے ہر روشن خیال ، لبرل اور بد عقیدہ شخص میدان میں کود پڑا ہے اور بڑے جوش خروش کے ساتھ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کو ایکسپلوائت کرنا چہ رہا ہے . یہ معافی کی باتیں، یہ صبر کی تلقین ، یہ انسانیت پر لمبے چھوڑے بھاشن اور اسلام کے احکامات کو غلط جگہ استعمال کرنے کی روایت …یہ سب کچھ بے وجہ نہیں اس کے پیچھے حکمت عملی کام کر رہی ہے. مجھے افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ اس مملکت خداداد پاکستان میں ایک اچھی خاصی تعداد دجال کے غلاموں کی تیار ہو چکی ہے..جو اپنے آقا کا ایجنڈا فالو کر رہے ہیں. مجھے امید ہی نہیں بلکے یقین ہے کے پاکستان میں جب بھی انقلاب آیا تو سب سے پہلے دجال کے انہی غلاموں کی گردنیں اتاری جائیں گی…انشا الله

  13. بلیک شِیپ says:

    ……………….واقعی ہمارے درمیان موجود ان کالی بھیڑوں کی حرکتیں ایسی ہی ہیں. اور یہ بات یہ خود بھی جانتے ہیں تب ہی کالی بھیڑ کا لفظ اپنے لیے استعمال کرتے ہیں. ان کا کام ہی اپنے حقیقی آقائوں سے وفاداری ہے…..
    😀 😀 😆 😆 😛 😛

  14. کاشف بھیا ماشاءاللہ اچھی تحریر لکھی ہے۔ مجھے خوشی ہوتی ہے کہ آپ ہر اہم موضوع پر قلم اُٹھاتے ہیں۔ لکھتے رہئیے گا۔۔۔۔

  15. عبداللہ says:

    عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک آنکھیں اور ذہن کھولنے والی تحریر!
    http://ejang.jang.com.pk//2-23-2011/london/pic.asp?picname=01_18.gif

  16. […] قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر […]

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>