صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

سانحہ راولپنڈی اور میڈیا کا کردار

مصنف: وقت: اتوار، 17 نومبر 20132 تبصرے

123ذرائع ابلاغ کے ذمہ دار افراد ایک طویل عرصے سے یہ دعوا کرتے رہے ہیں کہ واقعات کی  میرٹ پر رپورٹنگ کرنا انکا بنیادی فریضہ ہے اور  جب کبھی ان پر  ریٹنگ کی ڈور میں بھاگنے، سنسی خیزی پھلانے اورواقعات کو بڑھا چڑھا کر رپورٹ کرنے کے الزامات لگتے ہیں تو وہ اسی بنیادی اصول کی  بار بار تکرار کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ارباب صحافت پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے دوران اپنے مالکان کے دباو پراس بنیادی  اصول  کو جس طرح روندتے، کچلتے اور بیچتے ہوئے نظر  آتے ہیں اسکی مثال پڑوسی ملک بھارت کے علاوہ  دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ملتی۔ اگر آپ پاکستان کی صحافت خاص طور پر پچھلے دس سالوں  کی صحافت پر نظر ڈالیں تو باآسانی محسوس کریں گے کہ ایک منظم طریقے سے  خبروں کو کنڑول کیا جاتا رہا ہے۔ کم از کم سانحہ راولپنڈی میں ذرائع ابلاغ کا کردار ان لوگوں کی انکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا بے قابو ہوچکا ہے البتہ خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارا سوشل میڈیا مین اسٹریم میڈیا  کو پوری طرح بے نقاب کرچکا ہے۔

اگر یہ مقدمہ 2007 کی عدلیہ بحالی تحریک  سےشروع کیا جائے تو ابتدا میں یہ ہرگز کوئی عوامی تحریک نہیں تھی، ذرائع ابلاغ نے دن رات اس معاملے کی  کوریج کرکے اسے ایک عوامی مسئلے میں تبدیل کرنے کی  بھرپورکوشش کی۔ اسی برس  لال مسجد کے حوالے سے شدید منفی رپورٹنگ ہوئی اور  بدنام زمانہ آپریشن  کے بعد یہی ذرائع ابلاغ کوفیوں کا کردار ادا کرتے ہوئے عوامی جزبات کو مشتعل کرتا نظر آیا۔ وجہ صاف تھی کہ ذرائع ابلاغ پرویز مشرف کے خلاف کام کررہا تھا اور عوامی سطح پر انکی مقبولیت کو کم کرنے کے  لئے ذرائع ابلاغ نے ہر واقعے کو میرٹ سے ہٹ کر اسی بنیادی پیراہے میں رپورٹ کیا۔  2009 میں مالاکنڈ کشیدگی  کے معاملے کو بھی ذرائع ابلاغ نے سنبھالا اور کامیاب مذاکرات کو میڈیا وار کے زریعے ناکام کردیا گیا،  دلچسپ بات یہ تھی کہ وہی ذرائع ابلاغ تھا جس نے ایک متنازعہ ویڈیو کو بنیاد بناکر مذاکرات کی پیٹ میں چھرا گھونپا اوراس وقت  مجرمانہ طور پر خاموش اختیار کرلی جب افواج پاکستان نے سوات میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کیں اور سینکڑوں عام شہریوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے انکی لاشوں کو گلیوں میں پھیک دیا یا چوراہوں پر لٹکا دیا۔ ذرائع ابلاغ کا یہی انداز 2012 کے اواخر میں ایک بار پھر نظر آیا جب عمران خان کو اچانک غیر معمولی کوریج دی جانے لگی ۔ اور اب سے صرف چند روز پہلے مولانا فضل الرحمان اور سید منور حسن کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر دن رات نشر کیا جاتا رہا اور مخالفت میں بیان جاری کرنے والی معمولی سے معمولی جماعتوں اور انجمنوں کے بیانات کو بھی سرخیوں میں جگہ ملی حالانکہ سید منور حسن نے وہ بات کی ہی نہیں جس پر شور اٹھایا گیا اور جو بات انہوں کی وہ اس سے پہلے بھی کئی بار کرچکے تھے۔ بھارتی فلمی انڈسٹری کی عام سی خبروں کو سرخیاں بناکر پیش کرنا ہو، یا راجیش کھنا کی موت پر خصوصی ٹرانسمیشن کا اہتمام کرنا۔ ثانیہ مرزار اور شعیب ملک کی شادی ہو یا میرا کی انگھوٹی کا کھو جانا اور ریما کی سینڈل کا ٹوٹ جانا۔ سستی خبرنگاری، کرادر کشی، بلیک میلنگ،  اقربا پروری،غرض ہمارے میڈیا نے بھارتی میڈیا کی تقلید کرتے ہوئے زرد اور  کنڑول صحافت کوہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے ۔

سانحہ راولپنڈی  کی کوریج کے معاملے میں ذرائع ابلاغ نے کچھ نیا نہیں کیا۔ ایک رات قبل  ناگن چورنگی پر امام بارگاہ سے کچھ فاصلے پر ایک کریکر دھماکے کو ساری رات کور کیا جاتا رہا اور اس وقت کسی کو یہ خیال دامن گیر نہیں ہوا کہ اگلے روز جب  وطن عزیز کی ایک پوری کمیونٹی سڑکوں پر کھڑی ہوگی تو انکی طرف سے کتنا شدید ردعمل آسکتا ہے۔ لیکن اگلے روز جب روالپنڈی کے راجہ بازار سے جلوس گزرا اور اس میں شامل کچھ عزاداروں نے  نماز جمعہ کے تقدس کو روندتے ہوئے، مسجد و مدرسہ پر حملہ کیا، بازاروں کو آگ لگائی، نمازیوں پر گولیاں چلائیں اور  خنجروں سے طلبہ کو زبح کیا تو اچانک سے ہمارا پورا  کا پورا میڈیا بالغ ہوگیا، احساس ذمہ داری نے اسے کوریج سے روکے رکھا، لوگ مرتے رہے، میڈیا زمہ داری کا مظاہرہ کرتا رہا  یہاں تک کہ حالات اس قدر خراب ہوگئے کہ کرفیو لگانا ناگزیر ہوگیا۔ کسی نے یہ تک سوال نہ کیا کہ جلوس میں شامل یہ عزادار کیونکر تلوار اور خنجر لے کر چل رہے تھے،اتناز زیادہ آتش گیر مواد وہ کس ماتم کے لئے ساتھ لائے تھے اور غم حسین کا حزب اللہ کے جھنڈوں سے کیا تعلق ہے؟

ذرائع ابلاغ پر تنقید کرتے ہوئے ہمیں  یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسکےتین حصے ہیں،  ایک طاقتور مالکان، دوسرا مراعات یافتہ  صحافتی چاچے ماموں کا طبقہ اور تیسرے  شعبہ صحافت کے  بے بس و تنگ دست مزدور ۔ میڈیا  کی دوعملی اور اسکے ذریعے پھیلنے واے انتشار کے ذمہ دار میڈیا ماالکان اور صحافت کے چاچے مامے ہیں، گلیوں، محلوں اور بازاوں میں  مزدوری کرتے  عام صحافی  نہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس کنڑول ذرائع ابلاغ کے مقابلے میں  ایک متبادل اور آزاد سوشل میڈیا وجود میں آچکا ہے، جو کسی میڈیا مالک اورصحافتی چاچے مامے  کا محتاج نہیں۔ ایک مزدور صحافی اپنے پرانے کمپیوٹر پر بیٹھ کر ان طاقتور لوگوں کا کامیابی سے مقابلہ کررہا ہے اور  انکی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے  کہ میڈیا مالکان اور صحافتی چاچے مامے ہر وقت نالاں رہتے ہیں۔ اگر آپ پاکستان کی صحافت خاص طور پر پچھلے دس سالوں  کی صحافت پر نظر ڈالیں تو باآسانی محسوس کریں گے کہ ایک منظم طریقے سے  خبروں کو کنڑول کیا جاتا رہا ہے۔ کم از کم سانحہ راولپنڈی میں میڈیا کا کردار ان لوگوں کی انکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا بے قابو ہوچکا ہے ، خوش آئند بات یہ ہے کہ ہمارا سوشل میڈیا اب مین اسٹریم میڈیا کو بوری بے نقاب کرچکا ہے۔

فیس بک تبصرے

2 تبصرے برائے: سانحہ راولپنڈی اور میڈیا کا کردار

  1. جن لوگوں نے نواز شریف کو ووٹ دیا ہے انہیں چاہئیے کہ گریبان پکڑیں اب نواز شریف کا کہ سنیوں کے اس قتل عام پر مجرمانہ خاموشی کیوں؟ مجھے تو نواز شریف سے نہ پہلے کبھی خیر کی امید تھی نہ آج ہے، ان ہاتھوں کو بھی بے نقاب ہونا چاہئیے جو میڈیا کو کنٹرول کر رہے ہیں، یہ کون لوگ ہیں جو ایک واقع کو قیامت خیز بنا دیتے ہیں اور دوسرے بڑے واقع کو معولی سا تنازعہ دکھا کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

  2. کیا سارے چینل سرکاری چینل ہیں ؟ سرکار کون ہے اور غلام کون ؟ کیا ہمیں کبھی ان سوالوں کا جواب مل سکے گا کیونکہ سوشل میڈیا بھی تو انہی کا ہے کیا خبر کب اس کی ڈوریاں بھی کھینچ لی جائیں کسی بے ادبی کو جواز بنا کر ؟

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>