صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

جنوبی پنجاب کی سیاست

مصنف: وقت: جمعہ، 12 اپریل 2013کوئی تبصرہ نہیں

پنجاب کے اگیارہ اضلاع بہاولپور، رحیم یار، لہیہ، لودھراں، ملتان، مظفر گڑھ، بہاولنگر، وہاڑی، خانیوال، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور پر مشتمل علاقے کو عام طور جنوبی پنجاب کہا جاتا ہے جسکی وجہ ناصرف ان اضلاع کا جغرافیائی محل وقوع ہے بلکہ انکی جداگانہ لسانی، سیاسی، ثقافتی اور تاریخی بنیادیں بھی ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے غریب اور ان پڑھ عوام کا استحصال ان ہی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ کافی عرصے سے جنوبی پنجاب میں بہاولپور صوبے اور سرائیکی صوبے کی علیحدہ علیحدہ تحریکیں چل رہیں ہیں لیکن ان تحریکوں کو کبھی بھی موثر عوامی حمایت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔پچھلے چند سالوں سےجنوبی پنجاب کو مذہبی بنیادپرستی کا گڑھ بھی قرار دیا جارہا ہے اور ناصرف ملکی میڈیا بلکہ غیر ملکی میڈیا پر بھی اس علاقے کو مذہبی شدت پسندوں کی جنت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

جنوبی پنجاب کے ان اگیارہ اضلاع کی مجموعی آبادی تین کڑور اکسٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، آبادی کا 98 فیصد سے زائد مسلمان ہیں جن میں پچاسی فیصد سنی اور پندرا فیصد شیعہ ہیں۔ شرح خوانددگی کا تناسب 40 فیصد سے کم ہے اور زیادہ تر آبادی دیہات میں پھیلی ہوئی ہے۔ بڑے شہروں میں ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان اور ڈیرہ غازی خان شامل ہیں۔ نسلی طور پر یہ کثیرالسان خطہ ہے جہاں پنجابی، بلوچی اور سرائیکی بڑی لسانی اکائیاں ہیں۔

جنوبی پنجاب کو پنجاب کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں اسلام میں سبقت کا اعزاز بھی حاصل ہے، 712 عیسوی میں محمد بن قاسم کے ہاتھوں راجہ داہر کی شکست کے بعد یہ علاقہ اسلامی مملکت کا حصہ بنا اور دور بنو امیہ تک اسلامی مملکت کے صوبہ سندھ میں شامل رہا۔997 عیسویں میں سلطان محمود غزنوی ملتان پر حملہ آور ہوا، اس نے اسماعیلی حکمران حلال بن شعبان کو شکست دے کر اس پورے علاقے کو اپنی سلطنت کا حصہ بنایا۔ سلطان کی وفات کے بعد جب شہاب الدین غوری نے ہندوستان میں پہلی خودمختاد مسلم سلطنت کی بنیاد رکھی تو یہ خطہ بھی اسکی سلطنت کا حصہ تھا۔ سلطان کی وفات کے بعد یہ علاقہ طویل عرصہ تک سلاطین دہلی کے ماتحت رہا۔ 1557 میں ظہرالدین بابر نے ملتان کو فتح کیا اور اسے عظیم مغل سلطنت میں شامل کرلیا۔ مغل دور میں جنوبی پنجاب مجموعی طور پر پر امن اور خوشحال رہا لیکن مغل سلطنت کے روبہ زوال ہوتے ہی مرہٹوں کی سرکشی کا نشانہ بنا۔ پاتی پت کی تیسری جنگ میں احمد شاہ درانی کے ہاتھوں مرہٹوں کے شکست کے نتیجے میں یہ علاقہ بھی پٹھانوں کے زیر اثر آگیا۔درانی سلطنت کے خاتمے کے بعد ملتان اور ڈیرہ غازی پر سکھوں نے قبضہ کرلیا جبکہ بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کا علاقہ نواب محمد بہاول خان عباسی کے ہاتھوں قائم ہونے والی بہاولپور ریاست میں شامل ہوگیا جو ہندوستان کی چند خوشحال ترین ریاستوں میں شمار کی جاتی تھی۔

تحریک پاکستان کے دوران اس علاقے کے مسلمانوں نے بھی مسلم لیگ کا ساتھ دیا اور 1946 کے انتخابات میں جنوبی پنجاب کے ان اضلاع سے مسلم لیگ کے تمام امیدوار کامیاب ہوئے۔ تحریک پاکستان کے متحرک رہنما ممتاز دولتانہ کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے ہی تھا۔قیام پاکستان کے بعد 1970 میں ہونے والے پہلے عام انتخابات میں پورا جنوبی پنجاب زولفقار علی بھٹو کی گود جاگرا اور 1977 کے عام انتخابات میں بھی زولفقار علی بھٹو کے حق میں یہ رجہان برقرار رہا۔ زولفقار علی بھٹو کی وفات کے بعد سوائے 1997 کہ 1988 سے لیکر 2008 تک تمام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب سے بڑی تعداد میں نشستیں حاصل۔ ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر 2013 کے انتخابات میں بھی پاکستان پیپلزپارٹی کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ میرے مطابق پیپلز پارٹی اپنی تاریخ کی مشکل ترین دور میں بھی اپنے امیدواروں کے ذاتی اثر رسوخ اور صوبہ جنوبی پنجاب کے نعروں کی بنیاد پر یہاں سے کم از کم چھ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی۔

واضع رہے کہ جنوبی پنجاب کے اگیارہ اضلاع میں مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے43 حلقے ہیں اور پیپلز پارٹی نے 33 حلقوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں جبکہ باقی دس حلقوں میں وہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے امیدواروں کی حمایت کرے گی۔ زرداری ہاوس لاہور سے جاری ہونے والی فہرست میں سابق وزیر اعظم کے بھائی احمد مجتبی گیلانی اور دونوں بیٹوں موسع گیلانی اور عبدالقادر گیلانی کے علاوہ گورنر پنجاب کے بھائی مخدوم سید مصطفی محمود، سابق وزیر مخدوم شہاب الدین، عبدالستار لالیکا کے صاحبزادے اختر علی لالیکا اور کھر خاندان کے غلام ربانی کھر اہم نام ہیں۔ سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے انتخابات سے باہر ہوچکی ہیں جب کہ جعلی ڈگری کیس میں سزا یافتہ جمشید دستی آزاد حیثیت میں انتخاب لڑرہے ہیں۔اس الیکشن کی ایک خاص بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو ماضی کے برعکس اس بار کئی حلقوں پر مسلم لیگ کے بجائے تحریک انصاف کے امیدواروں کا مقابلہ کرنا پڑے گا جو یقینا ایک مختلف اور مشکل تجربہ ہوگا۔

عوام کس کو ووٹ دیں گے اسکا فیصلہ تو 11 مئی کے روز ہوگا لیکن میری رائے ہے کہ ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی پارٹی کے مقابلے میں شخصیات اور انکے اثرورسوخ کا مقابلہ ہوگا۔ اگر عوام نے اس ہی بنیاد پر ووٹ ڈالا تو میرے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) 23، پاکستان پیپلز پارٹی 10 اور تحریک انصاف 5 حلقوں سے کامیاب ہوکر پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کریں گے۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>