صفحہ اوّل » کاشف نامہ

’کریم‘ اور ’اوبر‘ پر پابندی !

مصنف: وقت: منگل، 31 جنوری 2017کوئی تبصرہ نہیں

دفتر میں کام زیادہ تھا جسے سمیٹتے سمیٹتے کب بارا بجے اندازہ ہی نہ ہوسکا۔ ہم اپنے سسٹم آف کرکے جب لائٹیں بند کررہے تھے تو دفعتا میری نظر کھڑکی کے باہر پڑی۔ سڑک سنسان تھی، دور تک اندھیرا تھا اور رات کے اس پہر میں سائٹ ایریا سے نکلنے کے لئے کسی سواری کا خیال ہی سوہاں روح تھا۔ لیکن اسی اثنا میں ایک کولیگ کو #اوبر کیا خیال آیا اور ہم اگلے دس منٹ میں ایک نئی چمچماتی کرولا کار میں محو سفر تھے۔

ادب و آداب سے آراستہ خوش باش ڈرائیور جسکا مکمل بائیوڈیٹا مذکورہ کمپنی کی ایپ پر موجود تھا اور یہ گاڑی اسوقت کہاں سے گزر رہی ہے، موبائل اسکرین پر نمایاں نقشے میں باآسانی دیکھا جاسکتا تھا۔ باہر کا موسم کیا تھا اس سے بے خبر ہم اندر کی ٹھنڈ محسوس کرتے ہوئے کوئی بیس منٹ میں اپنی منزل کو پہنچ گئے۔ میرا خیال تھا کہ رات گئے تیرا کلومیٹر کے اس سفر کی قیمت ایک سے ڈیڑھ ہزار روپے سے کم نہ ہوگی لیکن اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب موبائل اسکرین پر صرف ایک سو اسی روپے کا نوٹفیکشن نمودار ہوا۔ حیرت اور خوشی کے ملے جلے احساس نے دن بھر کی ساری تھکن اتار دی اور میں رات بھر دوستوں اور عزیز و اقارب کو اس شاندار تجربے سے آگاہ کرتا رہا۔

کراچی جیسے شہر میں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا تصور ناپید ہورہا ہو، جہاں بسوں کی تعداد دن بدن کم ہوتی جارہی ہو۔ جہاں خستہ حال گاڑیاں، بے رحم ڈرائیور، من مانے کرائے، اور چھتوں تک لگے مسافر روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہوں۔ جہاں صبح اور شام کے رش والے اوقات کے سوا، اسٹاپ پر بسوں کا انتظار کسی بیوقوفی سے کم نہ معلوم ہوتا ہو، جہاں موقع کا فائدہ اٹھاتے رکشے ٹیکسی کے نخرے آئے روز بڑھتے جارہے ہیں۔ پیلی اور کالی ٹیکسیاں ہوں یا سی این جی رکشے، میٹر کا کوئی تصور نہ ہو۔ جو دل کرے، کرایا مانگیں، جہاں مرضی آئے جانے سے انکار کردیں۔ وہاں موبائل ایپ کے زریعے کام کرنے والی یہ ٹیکسی سروس کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ روشنیوں کے شہر نے اس سہولت کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انہیں فراہم کرنے والی کمپنیوں کا جال پھیلنے لگا۔ پہلے چند درجن گاڑیاں اور دو ایک ہی وینڈرز تھے، اب ہزاروں نئی گاڑیاں اس سروس سے منسلک ہوچکی ہیں۔ سیکڑوں ڈرائیور جو وینڈرز یا کرائے کی گاڑیاں چلارہے تھے، ہر مہینے اپنی بڑھتی ہوئی بچت کو دیکھ کر بینکوں سے لیز پر ذاتی گاڑیاں نکلوا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف پانچ ماہ میں 2000 سے زائد نئی گاڑیاں لیز پر نکلوائی جاچکی ہیں۔ دوسری طرف سرمایہ داروں کی ایک تعداد بھی اس جانب متوجہ ہوگئی ہے، وہ لاکھوں لگا کر بیٹھے بٹھائے ہزاروں کمارہے ہیں۔ لیکن سب کچھ اتنا اچھا بھی نہیں ہے۔

نجی گاڑیوں کا تجارتی استعمال، روٹ پرمٹ کا طے نہ ہونا، ٹیکسی کے بجائے ذاتی ڈرائونگ لائسنس کا چلایا جانا، قومی ٹیکس نیٹ سے فرار، نرخ طے کرنے میں کمپنی کی مکمل آزادی اور حکومتی این او سی کا موجود نہ ہونا، اس سروس کو ناصرف غیرقانونی بنارہا ہے بلکہ اس کاروبار میں ہونے والی سرمایہ کاری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کررہا ہے۔ دو روز قبل پنجاب حکومت اور آج صبح سندھ حکومت نے ایسی ہی دو غیر ملکی کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ گو تلخ ہی سہی لیکن بادی النظر میں اس پابندی کا قانونی جواز موجود ہے کیونکہ کوئی بھی حکومت ان چیزوں سے یوں صرف نظر نہیں کرسکتی ہے۔ ان کمپنیوں پر لازم ہے کہ پاکستان کے مروجہ قوانین کا احترام کریں۔

جن کمپنیوں کا ذکر ہوا ہے ان میں اوبر اور کریم شامل ہیں۔ اوبر امریکی کمپنی ہے جسکی بنیاد 2012 میں رکھی گئی تھی اور اس کمپنی کو ہی اس تصور کا خالق بھی قرار دیا جاتا ہے۔ یہ 66 ممالک کے 545 شہروں میں پھیلی دنیا کی سب سی بڑی ٹیکسی سروس ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسکی اپنی ایک بھی ٹیکسی نہیں ہے۔ جبکہ امارتی کمپنی کریم پانچ سال پہلے دبئی سے شروع ہوئی، اب اسکے آپریشنز 11 ممالک کے 40 شہروں میں ہیں۔ ان دونوں کمپنیوں پر کسی بھی ملک میں پہلی بار پابندی نہیں لگی ہے بلکہ انہیں تقریبا ہر ملک میں کسی نہ کسی دباو کا سامنا رہا ہے۔ جرمنی، نیوزی لینڈی، مصر اور ہندوستان میں انہیں پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور برلن میں ابر پر تاحال پابندی ہے۔

ان کمنیوں کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بہت سے ملکوں میں نئی قانون سازی کے زریعے انہیں قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے۔ اس عالمی رجہان کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں بھی جہاں حکومت خود پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبوں میں وسیع سرمایہ کاری کرنے سے قاصر ہے، اس سہولت کو قانونی جواز فراہم کیا جائے۔ ساتھ ہی یہ خیال بھی رکھا جائے کہ کہیں قوائد و ضوابط کی آڑ میں بھاری ٹیکس اس ارزاں سہولت کو متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہی نہ کردے۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>