صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

یہ جنگ ہماری نہیں ہے۔

مصنف: وقت: پیر، 31 دسمبر 20123 تبصرے

بشیر احمد بلور کے قتل پر افسوس ہوا، اللہ انکو غریق رحمت کرے اور انکے پسماندگان کو صبر جمیل دے، چند روز قبل جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں مولوی عباس کے قتل پر بھی بہت افسوس ہوا تھا اور دل سے انکے لئے بھی اسی طرح کے جذبات نکلے تھے۔ افسوس تین دہائیوں قبل سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو جاتے جاتے ہمیں ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ گئے تھے جو پہلے دن سے ہماری نہیں تھی لیکن ہم اسے پچھلے 35 برسوں سے مسلسل لڑرہے ہیں۔ افسوس سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ افغانستان کی اس پرائی جنگ کو اپنا نصب العین بناچکی ہے۔افسوس ابتدائی پندرہ سال مذہبی دانشوروں کا طبقہ ایڑی چوٹی کا زور لگاکر ہمیں یہ سمجھاتا رہا کہ یہ ہماری بقاء کی جنگ ہے اور گزرے دس سالوں سے لبرل دانشوروں کا طبقہ ہمیں یہ بتارہا ہے کہ اگر ہم نے یہ جنگ نہیں لڑی تو ہماری آئندہ نسلیں محفوظ نہیں رہیں گی۔ لیکن نہ یہ جنگ کل ہماری تھی اور نہ آج ہماری ہے۔ اس لاحاصل جنگ سے ہمیں صرف بدنامی کے داغ، لاشیں، تشدد، عدم برداشت، فوجی استبداد، فرقہ واریت، دہشت گردی اور افراتفری پر مبنی معاشرے کا تحفہ ملا ہے اور جب تک ہم اس جنگ سے جڑے رہیں گے ہمیں اسی طرح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

میں تاریخی پس منظر اور واقعات کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ سب پہلے ہی داخل دفتر اور ریکارڈ کا حصہ ہے۔ میں تو فقط وہ سوالات کرنا چاہتا ہوں جن سے ہمارے دونوں طرح کے دانشور حضرات منہ چراتے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ ذولفقار علی بھٹو اور انکے ڈی جی ایف سی نصیر اللہ خان بابر نے افغان اسلام پسندوں کو وزیرستان میں مسلح کیمپ قائم کرنے اور افغانستان کے ثور انقلاب اور کمیونسٹ حکومت کے خلاف پاکستان کی سرزمین کو باقاعدہ استعمال کرنے کے لئے بیس، اسلحہ اور تربیت فراہم کی کیونکہ وہ اسلامی دنیا میں “ہیرو” بننے کی خواہش رکھتے تھے۔ کیا ضیاء الحق نے افغانستان میں دخل اندازی اور سوویت یونین کے خلاف جنگ اور عالمی جہادی تحریکوں کو اپنے اقتدار کی بقاٖ ء کے لئے استعمال نہیں کیا۔میرے مطابق یہ لغو جنگ تھی اور اسکے نتائج نے ثابت کیا کہ جنگ کا اصل فائدہ سرمایہ دارانہ نظام کو ہوا اور اسلام اور مسلمانوں کے ہاتھ سوائے بدنامی اور خون خرابے کے اور کچھ نہ آیا۔ کیا دس سال بعد جب سوویت یونین نے افغانستان سے فوجیں واپس بلائیں اور وسطی ایشیائی ممالک کو خومختاری دینے کا اعلان کیا تو بھی ہم اور ہماری سیکورٹی ایجنسیاں باز آگئی تھیں؟ ہماری سیکورٹی اسٹبلشمنٹ تو سپر پاور کو شکست دینے کو زعم میں مبتلا تھی، یہ لوگ خود کو دیوملائی طاقت کے حامل سمجھتے اور اپنے مدمقابل کو ریت کا ڈھیڑ اور عقل کا اندھا جانتے تھے اس لئے کبھی وسطی ایشیا کے نوجوانوں کو تربیت دیکر چیچنیا، ازبکستان اور ترکمانستان کی خودمختار حکومتوں کے خلاف بغاوت کے لئے اکساتے تو کبھی کشمیر میں دراندازی کا بازار گرم کرتے اور کبھی افغانستان میں قیام امن کے نام پر مجاہدین کے گروہوں کو آپس میں لڑاتے نظر آتے۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ افغانستان میں اتنا خون نور محمد تراکئی، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل اور نجیب اللہ کے کمیونسٹ دور میں نہیں بہا جتنا آئی ایس آئی کے مجاہدین نے باہمی لڑائی کے دروان بہایا گیا؟ کیا احمد شاہ مسعود، گلبدین حکمت یار، عبدالرسول سیاف، اسماعیل خان، صبغت اللہ مجددی، عبداقادی، مولوی یونس خالص اور استاد محقیق ایسے مجاہدین نے اقتدار کے لئے حصول کے لئے جہاد اور تمام اخلاقی اصولوں کو پامال کرکے افغانستان میں تباہی نہیں پھلائی؟ کیا پاکستانی سیکورٹی اسٹبلشمنٹ اس گورکھ دھندے میں ان مجاہدین کے ساتھ شامل نہیں تھی؟

یا کوئی جھٹلا سکتا ہے کہ جب افغانستان میں داخلی انتشار اور بدامنی کے دور میں ملا عمر اور انکے مدرسے کے طالبان سامنے آئے اور سویت یونین کے خلاف لڑنے والے والے دوسرے اور تیسرے درجے کے عام لوگ اور مدارس کے طلبہ انکے ساتھ ہونے لگے تو پاکستان کی سیکورٹی اسٹبلشمنٹ اور اس وقت کی حکومت نے طالبان پر اثر رسوخ حاصل کرنے کےلئے مدرسہ حقانیہ اور آئی ایس آئی نواز مولانا سمیع الحق کو استعمال کیا؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر پاکستانی سیکورٹی اسٹبلشمنٹ، مذہبی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور سیکولر طبقے کو طالبان کے طرز حکومت اور فکر سے اختلاف تھا تو پہلے دن سے ہی مخالفت کی جاتی لیکن بے نظیر بھٹو کی روشن خیال حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے لبرل دانشوروں کو مسترد کرکے ناصرف طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا اور سفارتی تعلقات قائم کئے بلکہ پوری دنیا میں اپنی حکومت کو وکیل صفائی کے طور پر پیش کیا۔ درحقیقت بے نظیر بھٹو کی دونوں حکومتوں میں افغانستان اور کشمیر سے متعلق سیکورٹی ایجنسیوں کی کاروائیوں میں تیزی آئی تھی اور بے نظیر بھٹو، انکے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر اور آئی بی چیف رحمان ملک بذات خود کشمیر اور افغانستان میں دراندازی کی زبردست حامی تھے۔

گو آپ وہی کاٹ رہے ہیں جو آپ نے بویا تھا، آپ نے باوجود مذہب کے سیاسی کردار سے بیزار طبیعت کے صرف اور صرف سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے مذہبی عسکریت پسندی کی بنیاد ڈالی، پروان چڑھایا اور افغانستان، کشمیر اور وسطی ایشیا برآمد کیا۔ آج جب آپکی منافقانہ پالیسی کےثمرات پاکستان کی دہلیز تک پہنچ چکے ہیں تو آپکو یاد آرہا ہے کہ یہ لوگ دہشت گرد ہیں اور آپ ان سے نمٹنے کے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ اختیار کررہے ہیں۔ دہشت گرد صرف یہ لوگ نہیں آپ بھی ہیں، آپکی سیکورٹی ایجنسیاں بھی دہشتگرد ہیں، آپکی سیکولر سیاسی پارٹیاں اور لبرل دانشور بھی ہیں البتہ انہوں نے اپنے چہرے نقاب میں چھپائے ہوئے ہیں۔

آج حالات بدل چکے ہیں لیکن ریاست پاکستان کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، کل مذہبی دانشوروں کو آگے کرکے اس جنگ کے حق میں تقاریر کرائی جاتی تھیں تو آج مذہبی دانشوروں کی جگہ لبرل دانشوروں نے لے لی ہے۔ دانشور لبرل ہوں یا مذہبی، سیکورٹی اسٹبلشمنٹ نے دونوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعال کیا اور دونوں ہی اپنے دوعملی روئے اور سازشی نظریات کی وجہ سے معاشرے میں ابہام، بے چینی، کنفیوزن اور اضطراب کے ذمہ دار ہیں۔ آج ایک طرف مذہبی دانشوروں کا طبقہ کبھی “ٹیٹوز” اور کبھی “ختنوں” کی اختراع چھوڑ کر سازشی نظریات گھڑتا اور تحریک طالبان پاکستان کی کاروائیوں کو سی ائی اے، را اور موساد کے کھاتوں میں ڈالتا ہے تو دوسری طرف لبرل دانشور طبقہ ٹی ٹی پی کی کاروائیوں پر سخت مبالغہ آرائی سے کام لیتا ہے اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ ان دانش وروں کو طالبان کا ردعمل تو دیکھتا ہے لیکن ڈرون حملے اور سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں نظر نہیں آتیں، انہیں ملالہ کے زخم یاد ہیں لیکن لال مسجد میں قتل کی گئی بچیوں کی اجتماعی قبریں بھول گئی ہیں ، انہیں درگاہوں اور امام بارگاہوں پر عسکریت پسندوں کی کاروائیوں پر تو تکلیف ہوتی ہے لیکن لاپتہ افراد اور ماوارائے عدالت قتل پر خاموش رہتے ہیں، انہیں سوات میں ملا فضل اللہ کی ڈی فیکٹو حکومت پر تو بے قراری ہوجاتی ہے لیکن کراچی میں الطاف حسین کی اجارہ داری پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

میں کبھی بھی تحریک طالبان پاکستان کے طرز عمل سے متفق نہیں ہوسکتا کیونکہ انہوں نے اسلام کے جنگی اصولوں اور ضابطوں کو نظر انداز کرکے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے لیکن میں انکے مدمقابل قوتوں یعنی سیکورٹی ایجنسیوں، سیکولر سیاسی جماعتوں اور لبرل سول سوسائٹی کے طرز عمل سے بھی متفق نہیں ہوسکتا کیونکہ ان لوگوں نے دوعملی اور منافقت اختیار کی ہوئی ہے اور ناصرف طالبان بلکہ انکے فکری حامیوں کے خلاف بھی ہر وہ طریقہ اختیار کررہے ہیں جسے حرف عام میں دہشت گردی کہا جاتا ہے۔ سیکورٹی ایجنسیاں گھر جلاتی ہیں، خواتین کی عصمت دری کرتی ہیں، بزرگوں پر کوڑے برساتی ہیں، بچوں کو اغوا کرتی ہیں اور نوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کرکے اجتماعی قبریں بناتی ہیں اور تمام سیکولر سیاسی جماعتیں اور لبرل دانشور ان سب کی حمایت کرتے ہیں۔

افسوس کل تک لبرل دانشور جس جنگ کو سرمایہ داروں کا فساد قرار دییتے تھے اور سیکورٹی اسٹبلشمنٹ، مذہبی دانشوروں اور انکے نقش قدم پر چلنے والی حکومتوں پر تنقید کرتے تھے آج اسی جنگ کو پاکستان کے اندر در لائے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم اپنی اآئندہ نسلوں کو بھی اس جنگ میں جھونک دیں جس میں خود ہم کہیں کہ نہیں رہے ، بھائی بھائی سے لڑے، پاکستانی پاکستانی کا گلہ کاٹے اور پختون پختون کا دشمن ہوجائے۔ لیکن نہ یہ جنگ کل ہماری تھی اور نہ آج ہماری ہے۔ اس لاحاصل جنگ سے ہمیں صرف بدنامی کے داغ، لاشیں، تشدد، عدم برداشت، فوجی استبداد، فرقہ واریت، دہشت گردی اور افراتفری پر مبنی معاشرے کا تحفہ ملا ہے اور جب تک ہم اس جنگ سے جڑے رہیں گے ہمیں اسی طرح کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فیس بک تبصرے

3 تبصرے برائے: یہ جنگ ہماری نہیں ہے۔

  1. علی۔ says:

    جنگ آغاز سے اب تک کے اہم واقعات کا اچھا موازنا کیا گیا ہے۔۔۔ لیکن کیا اس امپورٹڈ جنگ سے باہر نکلنے کا بھی کوئی راستہ ہے۔۔۔؟؟؟

  2. Lahoria says:

    Sorry for writing in English. Ok agreed that this is not our war, but what is the solution? How do we get out of the current quagmire? Isn’t that the question we should be asking?

  3. اسد اللہ خان says:

    تاریخی حقائق کی روشنی میں بہت اچھا تجزیہ پیش کیا ہے آپ نے افغان جنگ کا.

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>